Daily Sub News:
2026-07-24@02:42:08 GMT

ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس

ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز

لاہور: (آئی پی ایس) لاہور ہائیکورٹ نےججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس جاری کر دیئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اعلی عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کیخلاف درخواست پر سماعت کی، دورانِ سماعت عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15جنوری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہم اس معاملہ کی تہہ تک جائیں گے، ججز کی خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹیں تیار کریں یہ سائٹ دہشت گردی ہے، آئندہ کوئی ایسی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ داری ڈی جی ہوں گے۔

درخواست گزار کی جانب سے قانونی ماہر میاں داؤد پیش ہوئے جبکہ عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز ، ڈائریکٹر این سی سی آئی اے حشمت کمال سمیت دیگر افسران پیش ہوئے جسٹس علی ضیا نے باجوہ کا ججز کے خلاف مہم پر کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل صاحب بتائیے کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا؟ حشمت کمال صاحب آپ پنجاب کے سربراہ ہیں کیوں خاموش ہیں؟ حشمت کمال صاحب بتائے اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟ این سی سی آئی اے کیوں سو رہا ہے کیا وجہ ہے ؟

عدالت نے کہا کہ اتنی خوفناک مہم ججز کے خلاف چلائی جا رہی ہے اب تک ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی، ڈائریکٹر این سی سی آئی اے حشمت کمال نے کہا کہ ہم وقتاً فوقتاً پر معاملے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ آپ کی قانون کے مطابق یہ ڈیوٹی تھی کہ ججز کے خلاف یا اداروں کے خلاف کوئی ایسا مواد آئے تو آپ اس خود اختیارات استعمال کر سکتے ہیں کیوں آپ نے ڈیوٹی پوری نہیں کی؟ سیکشن 37 کہتا ہے غیر قانونی کانٹنٹ کو ہٹانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے اب تک کوئی ایک ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔

دوران سماعت عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز صاحب سے استفسار کیا کہ بتائے پنجاب حکومت کیا کر رہی ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے کہا کہ پنجاب حکومت ججز کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں، پنجاب حکومت ججز کے خلاف مہم کی مذمت کرتی ہے۔

جسٹس علی ضیا باوجود نے کہا کہ پنجاب حکومت کا موقف واضح ہے بتائیں وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے؟

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عمل کرے گی، درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد نے موقف اختیار کیا تھا کہ ججز کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کی خاموشی نے بھی سوالات کھڑے کئے ہیں، ججز کیخلاف سوشل میڈیا مہم میں ملوث اکائونٹس کیخلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا جائے، ججز کیخلاف سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد کی مسلسل مانٹیرنگ اور اسے فوری ہٹانے کا حکم دیا جائے

عدالت نے 15جنوری کو ڈی جی این سی سی آئی اے سمیت دیگر افسران کو طلب کرلیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت پاکستان اور جاپان کے درمیان گرانٹ معاہدے پر دستخط حکومت پاکستان اور جاپان کے درمیان گرانٹ معاہدے پر دستخط معروف ہالی ووڈ اداکار نے امریکی صدر کو دنیا کا بدترین انسان قرار دے دیا بنوں: امن کمیٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق پنجاب میں کاشتکاروں کی سہولت کیلئے منفرد ایگریکلچر لیب آن وہیل قائم کرنے کا فیصلہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق، محمود اچکزئی واحد امیدوار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سی سی آئی اے کو ججز کے خلاف

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی