ایرانی خواتین و لڑکیوں کو سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دیا جائے: ملالہ یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان کی کم عمر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ایرانی خواتین اور بچیوں کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایرانی لڑکیوں اور خواتین کی آواز سنی جائے اور اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کرنے کا حق دیا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ ایران میں جاری مظاہروں کو لڑکیوں اور خواتین کی خودمختاری پر عائد طویل عرصے سے جاری ریاستی پابندیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی زندگی کے تمام شعبوں، بشمول تعلیم، میں یہ پابندیاں گہرے اثرات رکھتی ہیں۔ ایرانی لڑکیاں، دنیا بھر کی لڑکیوں کی طرح، باوقار زندگی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام برسوں سے ذاتی خطرات مول لے کر اس جبر کے خلاف آواز اٹھاتے آ رہے ہیں، تاہم دہائیوں تک ان کی آوازیں دبائی جاتی رہی ہیں۔ یہ پابندیاں صنفی بنیادوں پر قائم ایک وسیع تر کنٹرول کے نظام کا حصہ ہیں، جو علیحدگی، نگرانی اور سزا کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے۔ ایسا نظام جو کلاس روم سے کہیں آگے جا کر آزادی، انتخاب اور تحفظ کو محدود کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام اپنے حقِ اظہار اور اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مستقبل ایرانی عوام کی قیادت میں ہی طے ہونا چاہیے، جس میں بیرونی قوتوں یا جابرانہ نظام کے بجائے ایرانی خواتین اور لڑکیوں کا قائدانہ کردار شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں آزادی اور وقار کے مطالبے میں ایران کے عوام اور بچیوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔