حکومت کا بڑا معاشی ہدف:4 سال میں برآمدات 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: حکومت نے ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے اور بیرونی انحصار کم کرنے کے لیے برآمدات میں بڑے اضافے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے چار برس کے دوران برآمدات کو دگنا کر کے 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے برآمدی ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر غور کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
احسن اقبال کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کریں گے، جو برآمدات میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر آئندہ ہفتے وزیراعظم کو حتمی سفارشات پیش کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے سول اور عسکری قیادت کو ایک جامع بریفنگ دی گئی تھی، جس میں آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے چار برس میں برآمدات 60 ارب ڈالر اور آئندہ دہائی میں 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کی حکمتِ عملی پیش کی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف بی آر کی کمزور کارکردگی کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ دسمبر کے مہینے میں 47 فیصد کم ریفنڈز ادا کرنے کے باوجود ایف بی آر کو 330 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ کے اجرا میں تاخیر ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال کے پہلے نصف میں ترقیاتی بجٹ کا صرف 21 فیصد، یعنی 210 ارب روپے خرچ ہو سکے۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو پاکستان کو ایک بار پھر دوست ممالک یا آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت دوست ممالک سے حاصل کیے گئے تقریباً 13 ارب ڈالر کے قلیل مدتی قرضوں کا مقروض ہے۔
وفاقی وزیر نے برآمدی صنعت کے فروغ کے لیے قومی تعطیلات کو مزدوروں کی رضامندی سے اختیاری بنانے کی تجویز بھی ی، تاکہ برآمدی سائیکل متاثر نہ ہو اور اربوں روپے کے نقصانات سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کو یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ وہ اعلیٰ برآمدی صلاحیت رکھنے والی ٹاپ 200 کمپنیوں کی سرپرستی کریں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھا جائے اور 2035 تک معیشت کو 600 ارب ڈالر تک لے جایا جائے، یا بلند اہداف اپنا کر ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر تک برا مدات انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔