نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ احتساب اور انکوائری کیلئے بنائے جانے والے اداروں کا مقصد مخالفین کیخلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ ان کا مقصد شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے وزیر اعلیٰ معائنہ کمیشن (CMIT) کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے کا تحفظ، گورننس کی بہتری اور گلگت بلتستان کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے بلاتفریق احتساب کا عمل لاگو کرنا لازمی ہے۔ وزیر اعلیٰ معائنہ کمیشن (CMIT) کی اہمیت اور افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی پیرائے کے مطابق آزادانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے قانون سازی کرنے پر غور کیا جائے۔ احتساب اور انکوائری کیلئے بنائے جانے والے اداروں کا مقصد مخالفین کیخلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ ان کا مقصد شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ معائنہ کمیشن (CMIT) کو اپنی توجہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور شفافیت کو یقینی بنانے پر مرکوز کرنا چاہئے تاکہ مفاد عامہ کے منصوبے شفاف انداز میں ٹائم لائنز کے مطابق مکمل ہو سکیں۔ نظام کی بہتری کیلئے نئے قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ناقص منصوبہ بندی، ناقص فیزیبلٹی اور PC-1 کی وجہ سے منصوبے التواء کا شکار ہوتے ہیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ مفاد عامہ کے منصوبوں میں غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کرنے والوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی جاری رہے تو منصوبوں کی برورقت تکمیل اور عوام تک ثمرات بروقت پہنچ سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان کو یقینی کا مقصد

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف