گورننس کی بہتری کیلئے بلاتفریق احتساب کا عمل لاگو کرنا ضروری ہے، نگران وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ احتساب اور انکوائری کیلئے بنائے جانے والے اداروں کا مقصد مخالفین کیخلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ ان کا مقصد شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے وزیر اعلیٰ معائنہ کمیشن (CMIT) کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے کا تحفظ، گورننس کی بہتری اور گلگت بلتستان کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے بلاتفریق احتساب کا عمل لاگو کرنا لازمی ہے۔ وزیر اعلیٰ معائنہ کمیشن (CMIT) کی اہمیت اور افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی پیرائے کے مطابق آزادانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے قانون سازی کرنے پر غور کیا جائے۔ احتساب اور انکوائری کیلئے بنائے جانے والے اداروں کا مقصد مخالفین کیخلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ ان کا مقصد شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ معائنہ کمیشن (CMIT) کو اپنی توجہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور شفافیت کو یقینی بنانے پر مرکوز کرنا چاہئے تاکہ مفاد عامہ کے منصوبے شفاف انداز میں ٹائم لائنز کے مطابق مکمل ہو سکیں۔ نظام کی بہتری کیلئے نئے قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ناقص منصوبہ بندی، ناقص فیزیبلٹی اور PC-1 کی وجہ سے منصوبے التواء کا شکار ہوتے ہیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ مفاد عامہ کے منصوبوں میں غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کرنے والوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی جاری رہے تو منصوبوں کی برورقت تکمیل اور عوام تک ثمرات بروقت پہنچ سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان کو یقینی کا مقصد
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔