اسحاق ڈار کا عباس عراقچی کو فون، ایران کی موجودہ صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں ایران کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے گفتگو کے دوران باہمی امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔ ان کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطے کھلے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روایتی ثالث سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بھی رابطے جاری ہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بعض امور اور عمومی خیالات سامنے آئے ہیں، تاہم ایران نے کبھی مذاکرات سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے متضاد بیانات سنجیدگی کی کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عباس عراقچی کے درمیان
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :