ایرانی انقلاب کے حق میں تہران کے انقلاب اسکوائر پر بڑی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ایران کا امریکا اور صیہونی حکومت کیخلاف مزاحمت میں شہید ہونیوالوں کی یاد میں 3روزہ سوگ کا اعلان
برطانوی سفیر کی ایران کی وزارت خارجہ میں طلبی،ایران کا پرچم اتارنے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کیا گیا
ایران نے امریکا اور صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت میں شہید ہونے والوں کی یاد میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران میں بگڑتی ہوئی داخلی صورتحال کے خلاف دنیا بھر میں ایرانی باشندوں کا احتجاج شروع ہوگیا،لاس اینجلس میں مظاہرے کے دوران ٹرک کی ٹکر سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی انقلاب کے حق میں تہران کے انقلاب اسکوائر پر بڑی ریلی نکالی گئی ۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بدامنی کے دوران ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا الزام ایران نے امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو میں صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھاکہ امریکا اور اسرائیل ایران میں افراتفری اور بیامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کیلئے ایران میں فسادات کرا رہے ہیں، ایرانی عوام فسادیوں اوردہشت گردوں سیخود کو دور رکھیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھاکہ عوام فسادیوں کو انتشار پھیلانیکی اجازت نہ دیں، ایرانی عوام کو یقین رکھنا چاہیے کہ ہم انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایران میں 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہے اور ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 192 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکی انسانی حقوق تنظیم ایچ آر اے این اے کا دعوی ہے کہ ایران میں 2 ہفتے سے جاری مظاہروں میں 500 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر لندن میں ایرانی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی ریلی اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اتارے جانے کے بعد تہران میں برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ۔ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے سفارتی مقامات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور مظاہروں کے بارے میں مداخلت پسند بیانات دے رہی ہے۔خیال رہے ہفتے کے روز، مغربی لندن میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت کے سامنے ایک ریلی کے بعد، ایک مظاہرین نے سفارت خانے کی بالکونی پر چڑھ کر اسلامی جمہوریہ کے جھنڈے کو نیچے اتارا، اور اس کی جگہ شیر اور سورج کے نشان کے ساتھ جھنڈا لگا دیا۔لندن پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور اب وہ تجاوزات کے الزام میں ایک اور شخص کی تلاش کر رہی ہے۔ایک اور ریلی میں، مغربی لندن کے کنسنگٹن میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کے سامنے مظاہرین کے ایک گروپ نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائے اور اس پر اشیا پھینکیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کے ریمارکس کی بھی مذمت کی۔برطانوی وزیر خارجہ نے پہلے ایران میں مظاہرین کی ہمت کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا کہ جو لوگ ایران کے رہنماں پر تنقید کرتے ہیں ان کے ساتھ تشدد، دھمکی یا انتقامی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بھی ایرانی کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی، جہاں یونانی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے تہران میں نوجوانوں پر فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: امریکا اور میں ایرانی ایران میں کے سامنے کے خلاف
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین