ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی بچاؤ مہم کیلئے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ارکان پارلیمنٹ، عہدیدار اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم جلد نئی حکمت عملی کا اعلان کرے گی، پاکستان میں وسائل اور انتظامی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایم کیو ایم کی کوشش ہوگی کراچی کے لیے تمام صوبائی اسمبلیوں سے مؤثر آواز بلند ہو۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں کراچی بچاؤ مہم کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ ٹاؤنز یوسیز اور مرکزی شعبہ جات کے ذمّہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرد رات کے اس پہر ایک اہم ذمہ داری سب پر عائد کی جاری ہے، تمام اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے کراچی کو تاراج کئیے جانا ضروری ہے، کراچی غلاموں کا نہیں آزادی دلانے والوں کا شہر ہے، پاکستان ہمارا عشق ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گھروں سے نکلنے کا وقت آچکا ہے، ایک لاکھ انسانی دستخط کا بوجھ پاکستان کا نظام انصاف اُٹھا نہیں پارہا ہے، شنگھائی نے پورے چائنا کو بنا دیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جو تباہی چاہتے ہیں انہیں آباد کرکے دکھانا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ میری آواز سنو سے آواز اٹھاؤ تک سفر جاری ہے، آج کراچی جس نہج پر کھڑا ہے اس سے حکمران طبقے کو بھی احساس ہو رہا ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لئے کراچی کو بچانا ضروری ہے، ایم کیو ایم اور کراچی لازم و ملزوم ہیں، کراچی کیلئے اربابِ اقتدار اب اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، معرکہء معیشت کی کامیابی کراچی کو بچانے سے مشروط ہے، کراچی کو بچائے بغیر آبیاری وطن ناممکن ہے، پاکستان کی بقاء و سلامتی کراچی سے جڑی ہوئی ہے، کراچی کو نکال کر پاکستان میں ترقی دیوانے کا خواب ثابت ہوگی، وقت آچکا ہے کہ کراچی کے کردار و مسائل کو مزید اجاگر کیا جائے، جعلی ڈومیسائل کراچی کے نوجوانوں کا تعلیمی و معاشی اور معاشرتی قتل کر رہا ہے، ایم کیو ایم جلد نئی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈنڈی مارنے کے باوجود شہری سندھ کی اکثریت آبادی انہی افراد کی ہے جن کے اجداد نے ملک بنایا اور بچایا تھا، پاکستان میں وسائل اور انتظامی تقسیم ناگزیر ہوچکی ہے خود مختار بلدیاتی نظام کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020ء اور نئے انتظامی یونٹس ایم کیو ایم کے مضبوط مؤقف کا حصّہ ہیں۔
حیدر عباس رضوی نے اپنے خیالات کی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دسختی مہم کو کامیاب کرنے پر تمام کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں، ایک لاکھ سے زائد دستخط ہوجانے پر کوئی بھی عدالتی پٹیشن عالمی سطح پر پزیرائی کے قابل ہو جاتی ہے، کراچی کی موجودہ صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، عوام کی نظریں ایک بار پھر ایم کیو ایم پر مرکوز ہیں، ایم کیو ایم کی کوشش رہے گی کہ کراچی کیلئے تمام صوبائی اسمبلیوں سے مؤثر آواز بلند ہو، ایم کیو ایم تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خاص و عام افراد کو اپنی اس مہم کا حصہ بنائے گی، ذمّہ داران و کارکنان کراچی کے مسائل کو اُجاگر کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں، صوبائی حکومت کے ترجمانوں کی چیخیں کامیابی کی نوید ہونگی۔ اِس موقع پر سینئر مرکزی رہنماء سید امین الحق سمیت اراکینِ مرکزی کمیٹی انچارج سی او سی فرقان اطیب و کمیٹی، حق پرست ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی کے کراچی کو ایم کی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔