پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نیا کارنامہ سر انجام دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ اگرچہ قومی ٹیم کے لیے مایوس کن ثابت ہوا، تاہم کپتان سلمان علی آغا کی شاندار اور جارحانہ بیٹنگ نے شائقینِ کرکٹ کے دل جیت لیے۔
دمبولا میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے صرف 12 گیندوں پر 45 رنز کی ناقابلِ یقین اننگز کھیلی جس میں 5 چوکے اور 3 شاندار چھکے شامل تھے۔ ان کی اننگز کا اسٹرائیک ریٹ 375.
اس سے قبل یہ اعزاز کیرون پولارڈ کے پاس تھا جنہوں نے 2021 میں سری لنکا کے خلاف 11 گیندوں پر 38 رنز بنا کر 345.5 کا اسٹرائیک ریٹ حاصل کیا تھا اور اب سلمان علی آغا نے اس ریکارڈ کو توڑ دیا۔
مزید پڑھیںسری لنکا کیخلاف سیریز سے قبل قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا بیان سامنے آگیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں کوئنٹن ڈی کوک، روہت شرما اور ڈیرن سیمی جیسے عالمی شہرت یافتہ بلے باز بھی شامل ہیں، تاہم سلمان علی آغا نے اپنی برق رفتار اننگز کے ذریعے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اگرچہ پاکستان میچ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکا مگر کپتان کی یہ تاریخی بیٹنگ طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی اور یہ ٹیم کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کپتان سلمان علی سلمان علی آغا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک