امریکا اور اسرائیل نے عوام اور سکیورٹی پر حملے کے لیے داعش بھیجی، ایران
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر عبدالرحیم موسوی نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ملک میں داعش کے دہشت گرد بھیجے تاکہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے جا سکیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا کہ یہ کارروائی حالیہ 12 روزہ جنگ میں واشنگٹن اور تل ابیب کی ناکامی کے بعد کی گئی۔ انہوں نے داعش کے حملہ آوروں کو کرایہ کے قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز مظاہروں کے دوران صبر و تحمل سے پیش آئیں لیکن دہشت گرد عناصر کو سڑکوں پر کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے امریکی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے، یہ اسلحہ اور بارودی مواد شرپسند عناصر نے اپنے گھروں میں چھپا رکھا تھا اور انہیں بیرونِ ملک سے براہِ راست ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔
خیال رہےکہ ایران میں پچھلے ماہ سے حکومت مخالف احتجاج جاری ہے، جس کی وجہ بدحالی اور ملکی کرنسی ریال کی ریکارڈ کمی ہے، جو اب 145,000 ریال فی امریکی ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ اس کے نتیجے میں ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 646 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سکیورٹی اہلکار اور مظاہرین شامل ہیں جبکہ 1,000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، 10,721 افراد کو ملک کے 31 صوبوں کی 186 شہروں میں 585 مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے،اب تک امریکا اور اسرائیل کی طرف سے اس الزام پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔