بھارت: 20 افراد کو کچلنے والا ہاتھی حکومت کے لیے درد سر بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں جنگلی ہاتھی نے 9دن کے اندر 20 افراد کو ہلاک کر دیا ۔خبر رساں ادارے کے مطابق شہریوں کو کچل کر مار ڈالنے کے یہ واقعات یکم سے 9 جنوری کے درمیان جھاڑکھنڈ مغربی ضلع میں پیش آئے۔یہ گھنے جنگلات سے گھرا علاقہ ہے جہاں ایشیائی ہاتھی انسانی آبادی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک غیر معمولی واقعے میں نر ہاتھی بدمست ہوگیا جو کم از کم 20 انسانوں کی جان لے چکا ہے اور اب بھی جنگل میں خوف کی علامت ہے۔ حکام نے بتایا کہ ہاتھی نوجوان، انتہائی پھرتیلا ہے اور زیادہ تر رات کے وقت جگہ بدلتا رہتا ہے، جس کے باعث اسے پکڑنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ اس وقت 100 سے زائد فاریسٹ اہلکار، ٹریکرز اور ریسکیو ٹیمیں ہاتھی کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ پورے علاقے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔اس کے باوجود اب تک ہاتھی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ شہریوں کو جنگل میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ اتنی ہلاکتوں میں ایک ہی ہاتھی ملوث ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔