سردی کا موسم اور غریب کی بدحالی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
سردی کبھی محض ایک موسم تھی۔ جس میں زندگی ذرا سست ہو جاتی تھی، صبح دھند میں لپٹی ہوئی اور شامیں لحافوں کے اندر سمٹ آتیں۔ سردی کی دھوپ ایک نعمت سمجھی جاتی تھی اور ٹھنڈی راتوں میں آگ پہ ہاتھ تاپتے ہوئے گپ شپ ہوا کرتی تھی۔ اب سردی صرف موسم نہیں رہی۔ یہ ایک سماجی اور معاشی کسوٹی بن چکی ہے جس پر ہر سال لاکھوں انسان آزمائے جاتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ ناکام وہی ٹھہرتے ہیں جن کے پاس پہلے ہی بہت کم تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ موسم ہمیشہ غیرجانبدار نہیں رہے۔ سردی نے سلطنتوں کو شکست دی، فوجوں کو پسپا کیا اور شہروں کے شہر اجاڑ دیئے، مگر ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک رہی، طاقتور طبقہ نسبتاً محفوظ رہا جب کہ کمزور طبقہ موسم کا پہلا نوالہ بنا۔ آج بھی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، صرف فرق یہ ہے کہ اب ہم اسے موسمیاتی تبدیلی کا نام دیتے ہیں اور یوں اپنی اجتماعی ذمے داری سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
زمین گرم ہو رہی ہے یہ بات اب کسی بحث کی محتاج نہیں، مگر اس بڑھتی ہوئی گرمی کا نتیجہ ہر جگہ یکساں نہیں، کہیں بے تحاشا بارشیں، کہیں خشک سالی اورکہیں ایسی سردی جو معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دے۔ موسموں کی ترتیب بگڑ چکی ہے۔ سردی اب وقت سے پہلے آ جاتی ہے یا پھر اس شدت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے کہ انسان اور فطرت دونوں سنبھل نہیں پاتے۔ اس بگاڑ کی اصل ذمے دار وہ صنعتی ریاستیں ہیں جنھوں نے دہائیوں تک زمین کا استحصال کیا مگر اس کی قیمت آج وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جن کا کردار اس تباہی میں نہ ہونے کے برابر تھا۔
پاکستان بھی انھی ممالک میں شامل ہے۔ اس وقت پنجاب شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ دیہات میں صبح کی ٹھنڈ ہڈیوں میں اترتی ہے اور شام تک ہاتھ پاؤں سن ہو جاتے ہیں۔ شہروں میں فٹ پاتھوں پر سونے والے، بس اڈوں پر رات گزارنے والے اور کچی آبادیوں کے مکین ان سب کے لیے سردی کسی موسمی خبرکا عنوان نہیں بلکہ روزانہ کا عذاب ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ہے کہ آیندہ پندرہ دنوں میں ملک بھر میں سردی مزید بڑھے گی۔ یہ پیش گوئی اُن گھروں میں خوف بن کر داخل ہوئی ہے جہاں نہ ہیٹر ہے نہ گیس نہ اضافی کمبل۔
غریب کے لیے سردی محض درجہ حرارت میں کمی نہیں۔ یہ روزی کے دروازے بند ہو جانے کا نام ہے۔ یہ بیمار بچے کے لیے دوائی نہ ہونے کی اذیت ہے۔ یہ اُس ماں کی خاموش دعا ہے جو رات بھر جاگ کر اپنے بچوں کو سینے سے لگائے رکھتی ہے تاکہ ان کو گرم رکھ سکے۔ دوسری طرف امرا سردی میں کافی کے مگ کے ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ کچی بستیوں میں یہ سردی زندگی اور موت کے درمیان ایک باریک لکیر کھینچ دیتی ہے۔ ہر سال ہم سنتے ہیں کہ فلاں شہر میں، فلاں شخص سردی سے جاں بحق ہو گیا۔ خبر دو سطروں میں نمٹ جاتی ہے اور ہمارا ضمیر بھی۔ ہم یہ سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں کہ آخر ایک انسان کو سردی سے مرنے دیا ہی کیوں گیا؟ کیا یہ محض موسم کی سختی تھی یا ریاست اور سماج کی بے حسی؟
پنجاب کی یہ سخت سردی ایک بار پھر ہمارے اجتماعی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ کیا کہیں ہنگامی شیلٹرز قائم کیے گئے؟ کیا دیہاڑی دار مزدوروں، اینٹوں کے بھٹوں پرکام کرنیوالوں اور بے گھر افراد کے لیے کوئی سنجیدہ انتظام کیا گیا؟ یا پھر حسب روایت یہ فرض چند فلاحی تنظیموں اور رضاکاروں کے سپرد کردیا گیا تاکہ ریاست سکون سے اپنی ذمے داریوں سے نظریں چرا سکے؟
سردی کی مار صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ باغات کی حالتِ زار بھی اسی کہانی کا حصہ ہے۔ شدید سردی نے پودوں کو مرجھا دیا ہے۔ پھول وقت سے پہلے مرجھا رہے ہیں، سبزہ پیلا پڑ چکا ہے۔ یہ باغات محض زمین کے ٹکڑے نہیں، یہ ہمارے طرزِ زندگی کا آئینہ ہیں۔ ہم نے درخت کاٹے، زمین کا سانس گھونٹا اور اب وہی زمین ہمیں بدلتے موسموں کے ذریعے متنبہ کر رہی ہے، مگر ہم ہیں کہ سننے سے انکاری ہیں۔
اصل سردی موسم میں نہیں، دلوں میں اتر چکی ہے۔ وہ سردی جو ہمیں دوسروں کے دکھ سے بے نیازکر دیتی ہے، اگر موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے تو اس کا مقابلہ محض بیانات اور رپورٹوں سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے سیاسی عزم، سماجی انصاف اور غریب دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر آنے والی سردی ہمارے اجتماعی زوال کی ایک نئی دستاویز بن کر سامنے آتی رہے گی۔
سردی آتی رہے گی اور چلی جائے گی۔ مگر اگر ہم نے اس ملک کے غریب کو موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ آنے والی نسلیں ہم سے یہی پوچھیں گی کہ جب زمین کراہ رہی تھی، جب موسم بگڑ رہے تھے اور جب انسان سردی سے ٹھٹھر رہا تھا تب ہم کہاں تھے؟
سردی میں سب سے زیادہ خاموشی سے جو طبقہ متاثر ہوتا ہے وہ لوگ ہیں جو گنتی میں بھی نہیں آتے۔ وہ بوڑھے جو عمر بھر محنت کے بعد اب کسی کونے میں سمٹے بیٹھے ہیں، وہ خواتین جو گھروں میں کام کر کے معمولی اجرت لاتی ہیں اور وہ بچے جن کے ہاتھوں میں گجرے یا کھلونے ہیں اور جو سرد راتوں میں سگنل پہ روزی کمانے کے لیے گاڑیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب ہماری اجتماعی ترجیحات کی فہرست میں کہیں بہت نیچے ہیں۔ ریاست کے کاغذوں میں یہ شہری ضرور ہوں گے مگر حقیقت میں یہ کسی کو نظر نہیں آتے۔ سردی ان کے لیے جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ احساسِ محرومی کو بھی گہرا کر دیتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ کچھ لوگ اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرتے ہیں، کمبل بانٹتے ہیں مگر مسئلہ خیرات کا نہیں انصاف کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک مہذب سماج میں کسی انسان کی زندگی موسم کے رحم و کرم پر ہونی چاہیے؟ کیا ترقی کے دعوے اسی دن کے لیے تھے کہ سردی آئے تو غریب مر جائے اور ہم محض افسوس کے دو بول، بول کر آگے بڑھ جائیں؟ یہ سرد راتیں ہمیں یہ یاد دلانے آتی ہیں کہ ترقی صرف عمارتوں اور سڑکوں کا نام نہیں بلکہ انسان کے تحفظ کا وعدہ ہے۔ شاید اب بھی وقت ہے کہ ہم اس سردی کو محض موسم نہ سمجھیں بلکہ ایک آئینہ مانیں جس میں ہمارا اجتماعی چہرہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیں اور میں یہ ہیں کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :