SEOUL:

جنوبی کوریا کی تاریخ کے ایک غیر معمولی اور سنسنی خیز مقدمے میں پراسیکیوٹرز نے سابق صدر یون سوک یول کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کر دیا ہے۔

استغاثہ نے عدالت سے کہا ہے کہ اگر یون سوک یول کو دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش پر قصوروار قرار دیا گیا تو انہیں سزائے موت دی جائے یا کم از کم عمر قید سنائی جائے۔

سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے یون سوک یول کو بغاوت کا سرغنہ قرار دیا۔

استغاثہ کے مطابق سابق صدر کا اقدام اگرچہ چند گھنٹوں میں ناکام ہو گیا، مگر اس نے پورے ملک کو شدید سیاسی بحران سے دوچار کر دیا۔

مارشل لا کے نفاذ کی کوشش کے بعد پارلیمنٹ نے یون کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے مقدمے کا سامنا کرایا گیا۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ اس اقدام کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن سابق صدر کے عزائم انتہائی خطرناک اور پُرتشدد نوعیت کے تھے۔

مزید پڑھیں

جنوبی کوریا میں جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر پھنس گیا؛ 267 افراد سوار ہیں

جنوبی کوریا کے صدر کے دورۂ چین کے دوران شمالی کوریا کا میزائل تجربہ

جنوبی کوریا: معزول صدر پر بغاوت کے الزام کے تحت فرد جرم عائد

ان کے مطابق یون سوک یول طاقت کے نشے میں مبتلا ہو کر آمریت اور طویل المدتی اقتدار کے خواہاں تھے۔

عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ فوجی کمانڈر نے گواہی دی ہے کہ یون نے ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

استغاثہ نے بطور ثبوت ایک خفیہ میمو بھی پیش کیا، جس میں صحافیوں، مزدور رہنماؤں اور سیاستدانوں سمیت سینکڑوں افراد کو ٹھکانے لگانے کی تجویز درج تھی۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق اس بغاوت کا سب سے بڑا نقصان خود جنوبی کوریا کے عوام کو پہنچا، اس لیے کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

یون سوک یول نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا اور یہ اقدام اپوزیشن کی مبینہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا گیا۔

عدالت کی جانب سے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ فروری میں سنائے جانے کا امکان ہے تاہم جنوبی کوریا میں گزشتہ تقریباً 30 برس سے سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کے باعث فیصلہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی کوریا یون سوک یول سزائے موت مارشل لا

پڑھیں:

فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار

فوٹو: آئی ایس پی آر 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار  کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار