سوتیلے بچے کا قتل، آدھا کیس مدعی، نصف پولیس خراب کر دیتی ہے: سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ نے چار سالہ سوتیلے بچے کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون کی ضمانت منظور کر لی۔ ملزمہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کے خلاف نہ کوئی عینی گواہ موجود ہے اور نہ ہی قتل سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آیا ہے۔ ملزمہ دوران حراست جیل میں ایک بچے کو جنم دے چکی ہے، جبکہ جاں بحق بچہ پہلے ہی دمہ کا مریض تھا۔ مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدعی مقدمہ بچہ کو صحیح سلامت گھر چھوڑ کر گیا تھا، تاہم سکول سے واپسی پر گھر میں بچے کی لاش پڑی ملی۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ میڈیکل رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کی موت قدرتی نہیں تھی۔ اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ بچے کو ماں نے ہی قتل کیا، ساتھ ہی ریمارکس دئیے کہ ایسے مقدمات میں آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کر دیتی ہے۔ ملزمہ کے خلاف26 مئی کو تھانہ ننکانہ صاحب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔