حکومت محفوظ، پائیدار، جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے پرعزم: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے معروف سویڈش ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایرکسن (Ericsson) کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات وزیراعظم ہائوس میں ہوئی۔ وفد کی قیادت کمپنی کے صدر اور مارکیٹ ایریا یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سربراہ مسٹر پیٹرک جوہانسن کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں ایرکسن کی چھے دہائیوں پر محیط سرمایہ کاری اور ملک کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کی ترقی میں اس کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں اقتصادی ترقی، پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اگلی نسل کے ڈیجیٹل رابطے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے5G سمیت جدید نیٹ ورکس میں ایرکسن کے عالمی تجربات سے استفادہ حاصل کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کو اجاگر کیا اور قومی ضروریات کے مطابق محفوظ اور پائیدار آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، مالی شمولیت اور کیش لیس ادائیگی کے نظام کی توسیع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے لیے تیاری اور ادارہ جاتی تیاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سٹریٹیجک شراکت داروں کی حمایت کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایرکسن کے وفد نے5G سپیکٹرم نیلامی سمیت ملک کے آئی ٹی انفراسٹرکچر کی مزید بہتری کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا کہا کہ حکومت محفوظ، پائیدار اور جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے پرعزم ہے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر آئی ٹی محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی انفراسٹرکچر کی کی ترقی آئی ٹی کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔