ایران کی بگڑتی ہوئی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260114-03-8
ایران کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال انتہائی تشویشناک اور سنگین ہوتی جارہی ہے ملک میں انٹرنیٹ بند ہے جس کی وجہ سے شہریوں کا بیرون ممالک سے رابطہ منقطع ہے۔ 28 دسمبر سے جاری معاشی بدحالی کے خلاف مظاہروں نے اب سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ابتداء میں یہ احتجاج محدود تھا مگر چند ہی دنوں میں یہ لہر پورے ملک میں پھیل گئی اب تک 31 صوبوں میں کم از کم سو شہروں میں مظاہرے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ احتجاج کی بنیادی وجہ مہنگائی ہے۔ روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں اچانک آسمان کو چھونے لگی۔ صورتحال اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب ایران کے مرکزی بینک نے وہ اسکیم ختم کردی جس کے تحت کچھ درآمد کنندگان کو سستے امریکی ڈالر ملتے تھے۔ اس فیصلے کے بعد دوکان داروں نے قیمتیں بڑھا دیں اور کئی تاجروں نے احتجاجاً اپنی دوکانیں بند کر دیں۔ جس سے مظاہروں نے شدت اختیار کر لی۔ مظاہرین نے شہر میں انفرا اسٹرکچرکو نشانہ بنایا۔ جس میں 26 بینک، اسپتال اور 25 مساجد شامل ہیں۔ پہلے بازار بند ہوئے پھر طلبہ سڑکوں پر نکلے اور اب پورا ملک سڑکوں پر ہے۔
ایران میں جاری یہ احتجاج محض معاشی بحران نہیں بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی واضح علامت بن چکا ہے۔ جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایران میں ہونے والے فسادات خانہ جنگی اور کھلی امریکا مداخلت سے اس خطے میں ایک بار پھر جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو حملے کی دھمکی دی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بند کرے اور امریکا کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرے ورنہ سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کی بات ماننا تو دور کی بات ہے وہ امریکا سے براہ راست مذاکرات بھی نہیں کریں گے۔ یمن پر کیا جانے والا حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جس کے نتیجے میں ایران کے اردگرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ 2015 میں اوبامہ کے دور میں ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے معاہدہ طے ہوا تھا۔ جس کی اقوام متحدہ کے مطابق ایران نے مکمل پاسداری کی تھی لیکن 2018 میں ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علٰیحدگی کا اعلان کر دیا اور ایران پر خوفناک اقتصادی پابندیاں لگائی اور معاہدے کو جواز بنا کر اب ایران پر حملے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اگر ہم تاریخی منظر میں دیکھتے ہیں تو جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران کا کردار مشرق وسطیٰ میں خلیجی ریاستوں کی طرح ہی تھا۔ ایک تو یہ خطے میں سوویت یونین اور دیگر سوشلسٹ قوتوں کے خلاف امریکی اڈے کے طور پر کام کرتا تھا۔ دوسری طرف مغرب کی کوشش تھی کہ مشرقی وسطیٰ کا تیل خطے کی اندرونی صورتحال کو بہتر کرنے کے بجائے امریکی اور برطانوی کمپنیوں زیر تسلط رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1951 میں ایران میں محمد مصدق کی حکومت میں منتخب ہوئی اور اس نے تیل کی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کی جرأت کی تو ان کمپنیوں نے سی آئی اے اور M16 کے ساتھ مل کر 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ اس کے بعد شاہ پہلوی کی آمریت قائم ہوئی۔ آج بھی کچھ لبرل اس آمریت کا دفاع کر رہے ہیں۔
جبکہ حقیقت میں یہ امریکا کے زیر تسلط ایک بدترین دور تھا جس میں دانشوروں سے لیکن طلبہ، خواتین، کسان اور مزدور رہنماؤں پر سوشلسٹ ہونے کا الزام لگا کر ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ 1979 میں شاہ اور امریکا کے خلاف آیت اللہ خمینی فرانس سے ایران میں تشریف لائے اور وہ رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ بلاشبہ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا اور اس کے بعد 1980 میں امریکا اور یورپی ممالک نے عراق کے صدام حسین کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملہ کروایا۔ عراق کو امریکا نے ایران کی تباہی اور اس کی بربادی کے لیے کیمیائی ہتھیار بھی دیے۔ ان سب کے باوجود 1990 میں امریکا نے اپنے اس ہیرو پر بدترین اقتصادی پابندیاں لگا دی۔ جس کی وجہ سے ہزاروں عراقی مارے گئے لیکن عراق کے برعکس ایران کمزور نہیں ہوسکا۔ ایران نے اپنے لیے متبادل تجارتی مواقع ڈھونڈے جن میں چین، روس، لاطینی امریکا اور چند یورپی ممالک سر فہرست تھے۔ آہستہ آہستہ ایران کی بڑھتی اقتصادی اور عسکری طاقت خطے میں امریکا نواز خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث بننا شروع ہوگئی۔ اب جب کہ ایران میں جنگ کا سماں ہے اور اگر یہ جنگ مسلط کی گئی تو اس جنگ کے پاکستان پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل اور امریکا کو پاکستان کے خلاف کھلا میدان بھی مل جائے گا۔ اگر امریکا کو ایک بار پھر پراکسی بنایا گیا اور ڈالروں کی بھرمار کی گئی جس سے جنگی کاروبار مزید مستحکم ہوگا۔
دوسری جانب بلوچستان کے حالات مزید پیچیدہ ہوں گے کیونکہ اس جنگ کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان ایران بارڈر پر ہی پڑیں گے۔ جس کی وجہ سے لڑائی میں شدت آئے گی۔ خطرہ یہ بھی ہے کہ امریکا کا اس خطے میں آخری ہدف جو کہ چین ہے اور سنکیانگ کی قومی آزادی کے لیے افغان مجاہدین سے جہاد کا اعلان کرایا جائے گا اور پاکستان کے علاقوں پنجاب،گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش بھی کی جائیں گی۔ بلاشبہ ایران میں بچھائی جانے والی بساط ہمارے خطے کے لیے ایک تباہ کن اور جنگ زدہ مستقبل کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ ایسے میں ایران کے مذہبی طبقے کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پرتشدد، فرقہ واریت جبر اور متعصب رویے نہ صرف دین کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کو بھی مداخلت کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ دین قوت، اخلاق سے پھیلتا ہے۔ مسلم معاشرے اگر عدل برداشت کا رویہ اختیار نہیں کریں گے تو اسرائیل اور امریکا جیسے سامراجی قوتیں ایک ایک کر کے سب کو ہڑپ کرتی رہیں گی کبھی آزادی کے نام پر اور کبھی حقوق کے بہانے ایسے میں ہم سب کی ذمے داری ہے کہ ہم موت کے ان سوداگروں کی تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنائیں اور فرقہ واریت کی آگ سے اپنے معاشرے کو بچا کر امریکا اور اس کے ایجنٹوں کی تمام چالوں اور ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا اور اور امریکا امریکا کے میں ایران ایران میں ایران کی ایران کے کے لیے اور اس کے بعد
پڑھیں:
مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
سٹی 42 : نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کی جانب سے امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی روابط کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز