جنگ بندی کے باوجود غزہ میں 100 سے زائد بچے ہلاک، اقوامِ متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
3 ماہ قبل نافذ ہونے والی ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق، اکتوبر کے اوائل سے اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے غزہ سٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی تقریباً ہر روز ایک بچہ یا بچی جان سے جا رہی ہے۔
ایلڈر کے مطابق غزہ میں بچے خودکش ڈرون حملوں سمیت فضائی حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہِ راست فائرنگ اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔
’ہم 100 کے ہندسے پر پہنچ چکے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، بلکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
مزید پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ ایسی جنگ بندی جو بمباری کی رفتار تو کم کرے مگر بچوں کو ملبے تلے دفن کرتی رہے، وہ کافی نہیں ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق، اس کمزور جنگ بندی کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 442 تک پہنچ چکی ہیں۔
وزارتِ صحت کےمطابق ان تمام ہلاکتوں کے علاوہ رواں سال کے آغاز سے اب تک سردی کی شدت کے باعث 7 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:
جیمز ایلڈر نے زور دیا کہ یہ حملے 2 سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد ہو رہے ہیں، جس نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابلِ تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے۔
’بچے آج بھی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نفسیاتی صدمے کا علاج نہیں ہو سکا اور جتنا یہ سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی یہ زخم گہرا اور ناقابلِ علاج بنتا جا رہا ہے۔‘
گزشتہ برس نومبر میں غزہ کی مقامی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیلی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، مسلسل فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔
یکم جنوری کو اسرائیل نے 37 بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا، جسے اقوامِ متحدہ نے اس وقت ’انتہائی اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیا تھا۔
جیمز ایلڈر کے مطابق بین الاقوامی این جی اوز اور انسانی امداد کو روکنا دراصل زندگی بچانے والی مدد کو روکنے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یونیسیف اکتوبر کے بعد سے غزہ میں امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم زمینی سطح پر شراکت داروں کی ضرورت ہے، اور موجودہ امداد اب بھی ضرورت پوری نہیں کر پا رہی۔
’جب اہم امدادی تنظیموں کو انسانی امداد پہنچانے اور حقائق دنیا کے سامنے لانے سے روکا جائے، اور غیر ملکی صحافیوں پر پابندی ہو، تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا مقصد بچوں کی تکالیف کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا تو نہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ جنگ جنگ بندی جیمز ایلڈر جینیوا خوف ڈرون غزہ فائرنگ فضائی حملے کواڈکاپٹر ناقابل علاج نفسیاتی صدمے وزارت صحت یونیسیف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ جیمز ایلڈر جینیوا خوف فائرنگ فضائی حملے کواڈکاپٹر ناقابل علاج نفسیاتی صدمے یونیسیف جنگ بندی کے مزید پڑھیں کے مطابق چکے ہیں کے بعد
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔