data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260114-2-16
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہسر، مرکزی رہنما عبدالقادر رانٹو، ایڈووکیٹ سروان جتوئی، نور نبی پلیجو اور ایڈووکیٹ آصف کھوسو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھی عوام سے جینے کا بنیادی حق بھی چھین لیا ہے۔ سندھ میں روزانہ بے دردی سے قتل کیے جا رہے ہیں، ان مظلوموں کی کوئی داد رسی نہیں ہو رہی اور بعد ازاں ان قتلوں کے عدالتوں سے بالاتر جرگے کروائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وڈیرے اور سردار جرگوں میں پولیس اخراجات کے نام پر لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال تین روز قبل رستم کے قریب ایک خاتون کے قتل پر خفیہ طور پر منعقد کیا گیا جرگہ ہے، جس میں پولیس اخراجات کے لیے 14 لاکھ روپے مقرر کیے گئے۔ ان جرگوں کے باعث عوام کا انصاف کے نظام سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں تفتیشی قوانین مدت سے غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور انہی قوانین کی آڑ میں جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتیشی قوانین میں فوری اصلاحات کی جائیں اور مجرموں کو بچانے میں ملوث پولیس افسران اور ان کے سہولت کاروں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں، تاکہ کوئی بھی تفتیشی افسر رشوت لے کر جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی نہ کر سکے۔ مزید کہا گیا کہ سندھ میں بدامنی کو جان بوجھ کر بڑھایا گیا ہے اور پولیس ڈاکوؤں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ لاڑکانہ میں 23 پولیس اہلکار بھی لوٹ مار کا شکار ہوئے، مگر اس کے باوجود ملزمان گرفتار نہیں کیے گئے، کیونکہ انہیں پیپلز پارٹی حکومت کے سرداروں اور وڈیروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی نااہل حکمرانی نے سندھ کو مکمل طور پر لاقانونیت اور بدامنی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے