مقامی آبادی بنیادی سہولیات و روزگار سے محروم ہے،طارق جاموٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی حیدرآباد ضلع کے صدر و رکن قومی اسمبلی سید طارق حسین شاہ جاموٹ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حیدرآباد سے گیس کی مد میں سالانہ تقریباً 12 کروڑ روپے کی پروڈکشن ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود مقامی آبادی بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کمانے کی سکت نہیں رکھتی، جبکہ او جی ڈی سی ایل اس علاقے سے بھاری آمدن حاصل کرنے کے باوجود نہ تو مقامی افراد کو ملازمتیں فراہم کر رہا ہے اور نہ ہی علاقائی ترقی کے لیے کوئی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال او جی ڈی سی ایل نے 12 کروڑ روپے کمائے، مگر مقامی سطح پر ایک بھی نوکری نہیں دی گئی۔سید طارق حسین شاہ جاموٹ نے مطالبہ کیا کہ او جی ڈی سی ایل اگر مقامی افراد کو ایم ڈی یا ڈائریکٹر کے عہدے نہیں دے سکتا تو کم از کم گریڈ ون سے فور تک کی نوکریاں، جن میں نائب قاصد اور دیگر ٹیکنیکل اسامیاں شامل ہیں، مقامی لوگوں کو فراہم کی جائیں۔انہوں نے اسے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس علاقے سے 12 کروڑ روپے سالانہ کی گیس پیدا ہو رہی ہے، وہاں آج تک گیس کی سہولت میسر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ہم پورے پاکستان اور ملک کی صنعتوں کو سپورٹ کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ جن علاقوں سے یہ وسائل حاصل کیے جا رہے ہیں، وہی علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی اس ناانصافی کے خاتمے کے لیے درخواست کی گئی تھی، مگر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات اور مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ مقامی عوام کو ان کا جائز حق دلایا جا سکے۔ضلع حیدرآباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے حیدرآباد پولیس کی جانب سے مؤثر، منظم اور بھرپور سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔