اصل عمر آخر کیا ہے؟ سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے سچ بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
معروف سوشل میڈیا اسٹار ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے حال ہی میں اپنی عمر سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر خاموشی توڑ دی۔
ڈاکٹر نبیہہ علی خان حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے نہ صرف اپنی اصل عمر کا انکشاف کیا بلکہ شناختی کارڈ سے متعلق متنازع معاملے پر بھی وضاحت پیش کی۔
پروگرام کے دوران میزبان کے سوال پر ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے بتایا کہ ان کی عمر 34 برس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ 33 سال کی ہیں اور جلد 34 برس کی ہو جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی ان کی اصل عمر ہے تاہم اس کے باوجود بعض افراد اس معاملے کو غیر ضروری تنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مزید گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے لیک ہونے والی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کے حوالے سے بھی مؤقف دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی شناختی کارڈ کی تصویر مکمل طور پر جعلی اور ایڈیٹ شدہ تھی جس کا ان کی اصل شناخت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب کچھ دو خواتین کی جانب سے منظم پروپیگنڈے کے تحت کیا گیا جس میں نہ صرف ذاتی معلومات میں رد و بدل کیا گیا بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ان کے بیانات بھی تبدیل کیے گئے۔
ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے کہا کہ اس قسم کی جعلی اور من گھڑت مواد کی اشاعت نہایت افسوسناک ہے کیونکہ ان ویڈیوز اور کلپس میں شامل کوئی بھی بات حقیقت میں انہوں نے نہیں کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کی ایک واضح مثال ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر نبیہہ علی خان ڈاکٹر نبیہہ علی خان شادی ڈاکٹر نبیہہ علی خان عمر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیہہ علی خان ڈاکٹر نبیہہ علی خان شادی ڈاکٹر نبیہہ علی خان عمر سوشل میڈیا انہوں نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔