لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور کے ہال روڈ پر سولر پینل اور انورٹر کے کاروبار سے متعلق چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن کا تعلق 4 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ سے ہے۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آرز قلعہ گُجّر سنگھ پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406 (فوجداری خیانت) کے تحت درج کی گئی ہیں۔ کم از کم 11 تاجروں نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے بھروسے پر بڑی رقم وصول کی اور پھر فنڈز ہتھیانے کے بعد کاروبار بند کر کے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی ہوگی یا اضافہ؟
ملزمان ساغر احمد، صدام حسین اور افضال جو ’نیو کراچی سولر‘ کے نام سے کاروبار کرتے تھے انہوں نے کئی تاجروں سے پیشگی ادائیگیاں اور کاروباری جمع پونجی وصول کی اور پھر اپنی دکانیں بند کر کے لاپتہ ہو گئے۔
ایک ایف آئی آر کے مطابق عمیر یوسف، عقیل عامر، حسن بلال اور سید ابوذر نے سولر آلات کی فراہمی اور دیگر کاروباری لین دین کے لیے مجموعی طور پر 1 کروڑ 62 لاکھ 68 ہزار روپے ملزمان کو ادا کیے جو واپس نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر سستا ہو گیا مگر عام پاکستانی کیوں محروم ہے؟
تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ صدام حسین جو لودھراں کا رہائشی ہے اس اسکینڈل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور اس نے اپنے دوست اور ملازم کی مدد سے یہ فراڈ سر انجام دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں سولر تاجروں کے ساتھ فراڈ سولر سولر پینل سولر فراڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سولر تاجروں کے ساتھ فراڈ سولر سولر پینل سولر فراڈ
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔