شدید سردی و طوفان: غزہ میں تباہ حال عمارتیں قہر بن گئیں، مزید 5 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: غزہ میں اسرائیلی بمباری سے پہلے ہی مکمل تباہ حال عمارتیں اب شدید سردی، طوفانی ہواؤں میں خستہ حالی کے باعث مزید قیمتی جانوں کو نگل رہی ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق شدید طوفان کے دوران مختلف علاقوں میں بوسیدہ دیواریں اور نیم مسمار عمارتیں گرنے سے مزید 5 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں خواتین، ایک کمسن بچی اور ایک بزرگ مرد شامل ہیں۔
غزہ سٹی کے مرکزی الشفا اسپتال کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں انتہائی خراب حالت میں اسپتال لائی گئیں جب کہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں جنہیں محدود وسائل میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ مسلسل محاصرے، ادویات کی قلت اور ایندھن کی کمی نے زخمیوں کے علاج کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 2 سال سے زائد عرصے میں ہزاروں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث لاکھوں فلسطینی خیموں یا کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم خوراک، گرم کپڑوں، ایندھن اور محفوظ پناہ گاہوں کی شدید قلت نے سردی کو ایک خاموش قاتل بنا دیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ایک سالہ معصوم بچہ رات کے وقت شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا جب کہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے ایک رات قبل بھی 2 بچے پناہ نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ تازہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ سٹی کے ساحلی علاقے میں بحیرہ روم کے کنارے نصب ایک خیمے پر 8 میٹر بلند دیوار گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کے مطابق طوفان کے باعث سیکڑوں خیمے تباہ ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد دوبارہ بے گھر ہو گئے ہیں۔ غزہ میں سردی، بھوک اور تباہی مل کر ایک ایسا انسانی المیہ بن چکی ہیں جس پر عالمی خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔