وفاقی حکومت کا کراچی کے قریب زیارت حسن شاہ جزیرے کو ایکو ٹورازم حب بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کراچی کے قریب زیارت حسن شاہ جزیرے کو ایکو ٹورازم حب بنانے کا اعلان کردیا۔
وزیر بحری امور نے کہا کہ زیارت حسن شاہ آئی لینڈ جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل ہوگا، ایکو فرینڈلی، اسپورٹس اور لائف اسٹائل ٹورازم کا جامع منصوبہ لائیں گے، زیارت حسن شاہ جزیرے پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ منصوبے پر ایک سے ڈیڑھ ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے، جزیرہ زمینی راستے سے کراچی کے ایسٹرن زون سے منسلک ہوگا، آسان رسائی سے روزگار اور مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ساحلی ماحول کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، سیاحت کے ساتھ ماحولیاتی ذمے داری ضروری ہے، پاکستان کی ساحلی پٹی کو معاشی انجن بنائیں گے، زیارت حسن شاہ جزیرہ بلیو اکانومی کی نئی مثال بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زیارت حسن شاہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔