بھارت کے خلاف جنگ نے JF-17 کو مؤثر فائٹر جیٹ بنا دیا، برطانوی ادارے ٹیلی گراف کا خصوصی مضمون
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان میں تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارہ عالمی دفاعی منڈی میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اس کی کارکردگی دیکھنے کے بعد متعدد ممالک کی فضائی افواج اس طیارے کی خریداری کے لیے قطار میں کھڑی ہو گئی ہیں، جس سے پاکستان کی دفاعی برآمدات کو بڑا فروغ ملنے کی توقع ہے۔
سعودی عرب سمیت کئی ممالک کی دلچسپیستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ ریاض اسلام آباد سے جدید عسکری ساز و سامان میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش، عراق، انڈونیشیا اور لیبیا کی نیشنل آرمی نے بھی جے ایف 17 تھنڈر خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے جنگ آزمودہ جے ایف 17 تھنڈر: پاکستان کی دفاعی برآمدات میں بڑی پیشرفت، کون سے ممالک خریدار اور کون منتظر؟
کئی ممالک کے ساتھ معاہدے طے پا چکے ہیں جبکہ بعض جلد متوقع ہیں۔
کم قیمت، اعلیٰ کارکردگیجے ایف 17 تھنڈر کی سب سے بڑی خوبی اس کی کم لاگت اور اعلیٰ جنگی صلاحیت ہے۔ مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی مختصر جنگ میں یہ طیارہ عملی طور پر آزمایا گیا، جہاں پاک فضائیہ کے مطابق اس نے فرانس کے تیار کردہ رافیل طیاروں کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔
پاکستان میں تیار ہونے والا جدید جنگی طیارہیہ ہلکا وزن رکھنے والا ملٹی رول فائٹر طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (PAC) میں تیار کیا جاتا ہے جو اسلام آباد سے قریب واقع ہے۔ اس کا بلاک ٹو ورژن 4.
جے ایف 17 میں AES A ریڈار، جدید ایویونکس اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز موجود ہیں، جو اسے امریکی ایف 16 اور روسی سوخو 27 پر برتری دیتے ہیں۔ یہ طیارہ درمیانی اور کم بلندی پر انتہائی مؤثر منور ایبلٹی رکھتا ہے اور بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے دبئی ایئرشو میں دوست ملک کے ساتھ جے ایف17 تھنڈر کی خریداری کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
مہنگے طیاروں کے مقابلے میں سستا متبادلماہرین کے مطابق جے ایف 17 اسی کیٹیگری میں آتا ہے جس میں رافیل، گریپن، یورو فائٹر ٹائیفون اور چین کا جے 10 شامل ہیں، مگر قیمت کے لحاظ سے یہ کہیں زیادہ سستا ہے۔
جے ایف 17 کی قیمت: 25 سے 30 ملین ڈالر
رافیل: 90 ملین ڈالر سے زائد
گریپن: 100 ملین ڈالر سے زائد
ٹائیفون: 117 ملین ڈالر
ایف 35: 109 ملین ڈالر
جنگی تجربہ جے ایف 17 کی بڑی طاقتجے ایف 17 کو 2019 اور 2025 میں بھارت کے خلاف عملی جنگی تجربہ حاصل ہوا۔ 2019 میں پاک فضائیہ نے ایک بھارتی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا۔
مئی 2025 کے 4 روزہ تنازع میں پاکستان نے 6 بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں 3 رافیل شامل تھے۔ بھارت نے نقصان تسلیم کیا مگر تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پاک فضائیہ کے مطابق جے ایف 17 نے بھارتی طیاروں کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ روس کے تیار کردہ ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو ہائپرسونک میزائل سے نشانہ بنایا، تاہم بھارت نے اس کی تردید کی ہے۔
جنگ بندی اور عالمی ردعمللڑائی 10 مئی کو اُس وقت ختم ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری جنگ بندی کا اعلان کیا۔ بعد ازاں پاکستان نے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔ ٹرمپ نے خود متعدد بار کہا کہ 6 سے 8 طیارے مار گرائے گئے۔
پہلے سے خریدار ممالکمیانمار (2015): 15 میں سے 7 طیارے موصول
نائجیریا (2021): 3 طیارے
آذربائیجان (2024): 16 طیارے، 1.5 ارب ڈالر کا معاہدہ
لیبیا: 4 ارب ڈالر میں درجنوں طیاروں کا معاہدہ
مزید 6 ممالک سے معاہدے متوقعپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدہ جلد متوقع ہے۔ انڈونیشیا 40 سے زائد طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ عراق نے بھی سنجیدہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے قرض کو جے ایف 17 معاہدے میں تبدیل کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
دفاعی برآمدات اور معیشتماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان مضبوط دفاعی برآمدی صنعت قائم کر لیتا ہے تو اس سے زرِمبادلہ، عالمی حیثیت اور معیشت کو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستانی ہتھیاروں کی کامیابی سے ملکی معیشت کا منظرنامہ بدل سکتا ہے اور ممکن ہے کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارہ جے ایف 17 تھنڈر ملین ڈالر تیار کردہ کے مطابق کے ساتھ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔