اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان پر تشدد اور گرفتاری کے واقعے پر پی ٹی آئی کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 13 جنوری کو اڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومتی جبر، پولیس کارروائیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کارکنان آئینی و قانونی حق کے تحت جیل کے باہر موجود تھے، تاہم پولیس نے اس پُرامن سرگرمی کو روکنے کے لیے طاقت اور تشدد کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، علیمہ خان کا اڈیالہ جیل کے باہر دعاؤں کے اہتمام کا اعلان
پارٹی کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 11 مرد کارکنان کو تھانہ روات میں حراست میں لیا گیا، جبکہ تین خواتین زلیخہ، ڈاکٹر اسماء اور ثنایہ سفیر کو راولپنڈی پولیس نے تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ اسی طرح ایڈووکیٹ راجہ یاسر، شاہد خٹک کے بھائی عادل اور تنویر کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کو آئین اور جیل قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے واپسی پر بحریہ ٹاؤن کے مقام پر پولیس ناکہ لگایا گیا جہاں شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے، خواتین کی گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا اور متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے باہر ڈراما لگاتی ہے، باز نہ آنے پر حل نکالنا ہوگا، رانا ثنااللہ
پارٹی کے مطابق بعض شہریوں سے رقم لے کر موبائل اور گاڑیاں واپس کی گئیں، جبکہ انکار کرنے والوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جو تاحال بحریہ چوکی پر کھڑی ہیں اور اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار مرد و خواتین کو فوری رہا کیا جائے، عمران خان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جائے، ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، ضبط کی گئی گاڑیاں اور موبائل واپس کیے جائیں اور ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی ان معاملات پر ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل پی ٹی آئی تحریک انصاف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پی ٹی ا ئی تحریک انصاف جیل کے باہر اڈیالہ جیل پی ٹی آئی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔