2025 دنیا کا تیسرا گرم ترین سال ریکارڈ، ماہرین کی مستقبل کیلئے خطرناک وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
یورپی یونین اور امریکی ماہرین کے مطابق سال 2025 دنیا کا تیسرا گرم ترین سال ثابت ہوا، جس کے ساتھ ہی زمین پر غیر معمولی حدت کا سلسلہ مزید طویل ہو گیا ہے۔
یورپی یونین کے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس اور امریکی تحقیقی ادارے برکلے ارتھ کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ 11 سال دنیا کے گرم ترین سال رہے ہیں، جن میں 2024 سب سے زیادہ گرم جبکہ 2023 دوسرے نمبر پر رہا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں پہلی مرتبہ عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اوسطاً 1.
برکلے ارتھ کا کہنا ہے کہ 2023 سے 2025 کے دوران درجہ حرارت میں اضافہ غیر معمولی رہا، جو زمین کے تیزی سے گرم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
کوپرنیکس کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد اس دہائی کے اختتام سے پہلے ہی عبور ہو سکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ جلد ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس حد کے عبور کو ناگزیر قرار دے چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی سے نقصان کی مدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2025 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ دنیا بھر میں تقریباً 77 کروڑ افراد نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ گرم موسم کا سامنا کیا، جبکہ کہیں بھی ریکارڈ سرد سال درج نہیں ہوا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں بھی گرمی کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگر ایل نینو موسمی نظام فعال ہوا تو یہ سال بھی ریکارڈ توڑ گرم ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔