بڑی ٹیکنالوجی چھوٹا سائز: کیا بڑے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے میدان میں ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے کہ آیا مستقبل میں بڑے اور توانائی خور ڈیٹا سینٹرز کی جگہ چھوٹے، مقامی اور حتیٰ کہ موبائل ڈیوائسز پر چلنے والے اے آئی سسٹمز لے لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت آپ کے بجلی کے بل بڑھا رہی ہے؟
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اے آئی کمپنی پرپلیکسیٹی کے چیف ایگزیکٹو اروند سرینیواس نے کہا کہ ایک دن ایسا آ سکتا ہے جب طاقتور اور ذاتی نوعیت کے اے آئی ٹولز براہِ راست اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیوائسز پر چلیں گے جس کے بعد بڑے ڈیٹا سینٹرز غیر ضروری ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مستقبل میں اے آئی کو کام کرنے کے لیے ڈیٹا کو مسلسل بڑے ڈیٹا سینٹرز تک بھیجنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ یہ ٹیکنالوجی صارف کی اپنی ڈیوائس پر ہی مؤثر انداز میں کام کر سکے گی۔
ایپل کا اے آئی سسٹم ایپل انٹیلیجنس پہلے ہی اپنی جدید ڈیوائسز میں موجود خصوصی چپس پر کچھ فیچرز چلا رہا ہے جس سے رفتار بہتر اور صارف کا ڈیٹا زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح مائیکروسافٹ کے کوپائلٹ پلس لیپ ٹاپس بھی آن ڈیوائس اے آئی پروسیسنگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں تاہم یہ سہولیات فی الحال مہنگی ڈیوائسز تک محدود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام ڈیوائسز میں فی الحال اتنی طاقت نہیں کہ وہ مکمل اے آئی سسٹمز چلا سکیں۔
کنسلٹنسی فرم ٹوٹل ڈیٹا سینٹر سلوشنز کے ڈائریکٹر جوناتھن ایونز کے مطابق یہ ایک طویل المدتی امکان ہے کہ کب اور کیسے طاقتور اور مؤثر اے آئی مقامی ڈیوائسز پر چل سکے گی۔
چھوٹے ڈیٹا سینٹرز کا تصوراگرچہ ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی طلب میں کمی نہیں آ رہی تاہم ان کے سائز اور ساخت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
روایتی ڈیٹا سینٹرز عموماً بڑے گودام نما عمارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں جہاں ویڈیو اسٹریمنگ، آن لائن بینکنگ، ڈیٹا اسٹوریج اور اے آئی پروسیسنگ جیسے کام انجام دیے جاتے ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں چھوٹے ڈیٹا سینٹرز کی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ برطانیہ کے علاقے ڈیون میں ایک ایسا ڈیٹا سینٹر نصب کیا گیا جو حجم میں واشنگ مشین جتنا تھا اور اس سے خارج ہونے والی حرارت ایک عوامی سوئمنگ پول کو گرم کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔
نومبر 2025 میں ایک برطانوی جوڑے نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے گھر کو باغیچے میں نصب ایک چھوٹے ڈیٹا سینٹر کے ذریعے گرم کر رہے ہیں۔
اسی طرح ایک یونیورسٹی پروفیسر نے بتایا کہ ان کے دفتر میں موجود طاقتور جی پی یو پروسیسر نہ صرف اے آئی کے کام انجام دیتا ہے بلکہ کمرے کو گرم بھی رکھتا ہے۔
ماحول اور توانائی کے خدشاتاس کے باوجود دنیا بھر میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اربوں ڈالرز کے بڑے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کر رہی ہیں۔ صرف برطانیہ میں تقریباً 100 نئے ڈیٹا سینٹرز زیر تعمیر ہیں۔ یہ مراکز بھاری مقدار میں توانائی استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ماحولیاتی اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم: بٹ کوائن مائننگ و اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص
این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ ڈیٹا سینٹرز کو اے آئی فیکٹریاں قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق تیزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے یہ ناگزیر ہیں اگرچہ اے آئی کی ترقی میں کمپیوٹنگ پاور کے بے تحاشا اضافے کا رجحان اب سست پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈیپ گرین کمپنی کے بانی مارک بیورنزگارڈ کا کہنا ہے کہ ہر عوامی عمارت میں ایک چھوٹا ڈیٹا سینٹر ہونا چاہیے جو نہ صرف کمپیوٹنگ فراہم کرے بلکہ حرارت بھی پیدا کرے۔
اوپن یوکے کی سربراہ امانڈا بروک کے خیال میں بڑے ڈیٹا سینٹرز کا تصور ایک بلبلا ہے جو وقت کے ساتھ پھٹ جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ بند دکانوں اور ویران عمارتوں کو چھوٹے ڈیٹا سینٹرز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کچھ کمپنیاں اس سے بھی آگے جا کر خلا میں چھوٹے ڈیٹا سینٹرز نصب کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: گوگل کا ڈارک ویب رپورٹ ٹول بند کرنے کا اعلان، صارفین کا ڈیٹا اب کیسے محفوظ رہے گا؟
رامون اسپیس کے سی ای او آوی شبتائی کے مطابق مدار میں موجود ڈیٹا سینٹرز مؤثر اور لچکدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔
چھوٹے اے آئی ماڈلز کا رجحانماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی ٹولز خود بھی چھوٹے اور مخصوص ہو جائیں تو بڑے ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت مزید کم ہو سکتی ہے۔ بڑے لینگویج ماڈلز اگرچہ طاقتور ہیں لیکن اکثر غلطیاں بھی کرتے ہیں۔
مشین لرننگ کمپنی ہگنگ فیس سے وابستہ ڈاکٹر ساشا لوچیونی کہتے ہیں کہ ہم بڑے اور وسائل کھانے والے ماڈلز سے چھوٹے، مخصوص اور مقامی سطح پر چلنے والے ماڈلز کی طرف ایک واضح تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔
سیکیورٹی اور فوائدکچھ خدشات قومی سلامتی سے بھی جڑے ہیں تاہم سیکیورٹی ماہر پروفیسر ایلن ووڈورڈ کا کہنا ہے کہ چھوٹے ڈیٹا سینٹرز میں نقصان کا دائرہ محدود ہوتا ہے جبکہ بڑے مراکز کے بند ہونے سے وسیع پیمانے پر خلل پیدا ہو سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں بڑے کلاؤڈ سسٹمز کے تعطل سے دیکھا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت کال سینٹرز کا خاتمہ کر دے گی؟
ماہرین کے مطابق ماحولیات، توانائی کی بچت اور کارکردگی کے لحاظ سے مستقبل میں چھوٹے، مقامی اور زیادہ مؤثر ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی سسٹمز کا کردار بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی ڈیٹا سینٹرز بڑی ٹیکنالوجی ڈیٹا سینٹرز کا حجم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ڈیٹا سینٹرز بڑی ٹیکنالوجی ڈیٹا سینٹرز کا حجم بڑے ڈیٹا سینٹرز ڈیٹا سینٹرز کا ڈیٹا سینٹرز کی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مطابق میں ایک کے لیے اے آئی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔