صدر مملکت آصف زرداری کو بحرین کا اعلیٰ ترین ایوارڈ عطا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مناما: صدر مملکت آصف علی زرداری کو بحرین کے سرکاری دورے کے دوران ملک کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ عطا کر دیا گیا، صدر زرداری کو یہ ایوارڈ پاکستان اور بحرین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی قصر القضیبیہ آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد ان کی بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بحرین کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انہیں نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر صدر مملکت کو بحرین کا اعلیٰ ترین ایوارڈ وسام الشيخ عيسى بن سلمان آل خليفة من الدرجة الأولى عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں صدر آصف علی زرداری کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
صدر مملکت اور شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے درمیان ون آن ون ملاقات میں پاک بحرین تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ صدر آصف علی زرداری نے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے زراعت، آئی ٹی، صحت، سیاحت اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو پاک بحرین تعلقات کا اہم ستون قرار دیا گیا، جبکہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتحاد، تحمل اور باہمی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
صدر مملکت نے بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دوطرفہ تعلقات کا مضبوط پل قرار دیتے ہوئے بحرین میں مقیم ایک لاکھ 16 ہزار پاکستانیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے پر بحرینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر کنگ حمد یونیورسٹی اسلام آباد کو پاک بحرین دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔
شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے صدر آصف علی زرداری کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے بحرین میں پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر آصف علی زرداری دوطرفہ تعلقات صدر مملکت بحرین کے کیا گیا دیا گیا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔