کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کیلئے کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کےلیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور کابینہ کو اسٹیٹ بینک کے نئے نوٹوں کے ڈیزائن پر بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک سے جاری ہونے والے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر بریفنگ دی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد ہمارے طیاروں کی مانگ بڑھ گئی ہے، کئی ممالک طیاروں کے حصول کیلیے بات کر رہے ہیں، اس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس بی پی نئے کرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کر رہا ہے۔
وزیراعظم اور کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن سے متعلق بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور کےلیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر کرنسی نوٹوں کے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔