سندھ میں میٹرک یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس اور ماڈل پیپر کے اجرا میں تاخیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے پورے صوبے میں میٹرک کی سطح پر سلیبس ایگزامینیشن پیٹرن تبدیل کیے جانے کے بعد "یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس" (یو ای ایس) اور ماڈل پیپر کے اجراء میں تاخیر ہوگئی ہے۔
ایس ایل او "اسٹوڈنٹ لرننگ آئوٹ کم" کی بنیاد پر تیار کیا گیا نیا ماڈل پیپر تاحال جاری نہیں ہوسکا ہے جس سے کراچی سمیت پورے صوبے میں اس بار سال 2026 میں نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات دینے والے 10 لاکھ کے قریب طلبہ اپنے امتحانی پرچوں examination paper کی ترتیب اور اسٹریکچر کے حوالے ناواقف ہیں۔
سندھ میں نویں اور دسویں کلاسز کو پڑھانے والے ہزاروں اساتذہ یہ جانتے ہیں کہ اس بار امتحانی پرچے کس طرح آئیں گے اور نا لاکھوں طلبہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے امتحانی سوالات کا پیٹرن کیا ہوگا جس کے سبب امتحانات لینے والی اتھارٹی میں بھی ایک بحرانی کیفیت ہے نویں اور دسویں جماعتوں کے یہ ایگزامینیشن ماڈل پیپر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذیلی ادارے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپرومنٹ پروجیکٹ(ایس ایس ای آئی پی) کو جاری کرنے ہیں جس میں تاخیر ہورہی ہے۔
" ایکسپریس " نے اس سلسلے میں ایس ایس ای آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو سے رابطے کی کوشش کی تاہم انھوں نے فون ریسیور نہیں کیا۔
اس ادارے کی ایک اور افسر عطا حسین لاکھو سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ایک اور ذیلی ادارے DCAR کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے امتحانی پرچے بھی یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کے تحت تیار کیے جارہے ہیں اور انٹرمیڈیٹ میں بھی اس بار کچھ مضامین کے امتحانی پرچوں "ایس ایل او" کی بنیاد پر تیار کیے جارہے ہیں جس کے ماڈل پیپر ابھی آنے باقی ہیں جس کی وجہ سے کچھ تاخیر ہورہی ہے۔
تاہم استفسار پر ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ایک اجلاس یے جس کے بعد ہم نویں اور دسویں کے ماڈل پیپر امتحانی بورڈز کے لیے آن جاری کردیں گے "۔
واضح رہے کہ ممکنہ طور پر اس بار سال 2026 کے میٹرک کے سالانہ امتحانات مارچ میں منعقد ہونے ہیں اور اس لحاظ سے امتحانات میں اب ڈیڑھ ماہ کا وقت باقی ہے۔
یاد ریے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے 23 دسمبر کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پورے سندھ میں نویں اور دسویں کی سطح پر "انگریزی، ریاضی، طبعیات، کیمیا اور حیاتیات " کے مضامین کے پرچے یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کے تحت تیار کرنے کے سلسلے میں این او سی جاری کی تھی اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ ڈائریکٹوریٹ آف کرکیکولم ، اسسمنٹ اینڈ ریسرچ DCAR کی جانب سے غور و خوص کے بعد کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو بھی اب 22 روز گزر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ اسکول ایجوکیشن نویں اور دسویں
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔