عالمی پر تیل کی قیمتیں کم ترین، پھر بھی معاشی ترقی نہیں ہو رہی، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتیں 4 سال کی کم ترین سطح پر ہیں، پھر بھی معاشی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔
ایک بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ امریکی ٹیرف کے باوجود برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار ہے، پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں امریکی ٹیرف میں رعایت سے فائدہ نہ مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی بجلی اور گیس کی بلند شرحیں برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ہے، صنعتکاروں کی وارننگ درست ہے، توانائی پالیسیاں سوالیہ نشان ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت 8 ڈالر میں ایل این جی خرید کر صنعتوں کو 15 ڈالر میں بیچ رہی ہے، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ پاکستانی برآمدات میں 8 اعشاریہ7 فیصد کمی ہوئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ دسمبر میں برآمدات میں تشویشناک 20 اعشاریہ 4 فیصد سالانہ کمی ریکارڈ ہوئی جبکہ تجارتی خسارہ 34 اعشاریہ 6 فیصد اضافے کے ساتھ نصف سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔
مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ عالمی تیل کی قیمتیں 4 سال کی کم ترین سطح پر ہیں پھر بھی معاشی ترقی نہیں ہو رہی، غیر معمولی عالمی اور ادارہ جاتی امداد کے باوجود حکومت معیشت سنبھالنے میں ناکام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل برا مدات میں کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔