پاکستان ریلویز بوگیوں کی کمی پر قابو پانے میں ناکام، مسافر شدید مشکلات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور:
پاکستان ریلویز نہ تو اپنے انفرا اسٹرکچر کو مؤثر طور پر اَپ گریڈ کر سکا ہے اور نہ ہی مسافر ریل گاڑیوں میں بوگیوں کی شدید کمی کو پورا کیا جا سکا، جبکہ تمام تر توجہ صرف ریلوے اسٹیشنز کی خوبصورتی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ بوگیوں کی قلت کے باعث مسافر ریل گاڑیوں کی روانگی میں گھنٹوں کی تاخیر معمول بن چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق بوگیوں کی کمی پوری کرنے کے لیے پاکستان ریلویز قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی بوگیوں کو بھی آپریشن میں شامل کر رہا ہے جن کی فزیکل، مکینیکل اور الیکٹریکل اوورہالنگ کی مقررہ مدت مکمل ہو چکی ہے۔
انکشاف ہوا ہے کہ ان غیر فِٹ بوگیوں کو مسافر ٹرینوں میں ایڈجسٹ کر کے آپریشن جاری رکھا جا رہا ہے، جو مسافروں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
پاکستان ریلویز ذرائع نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں راولپنڈی، فیصل آباد، کراچی، پشاور سمیت مختلف شہروں کے لیے تقریباً 106 مسافر ریل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں، جن کے لیے 1560 بوگیوں کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب بوگیوں کی تعداد 1100 کے قریب ہے۔ اس طرح 400 سے زائد بوگیوں کی واضح کمی کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمی کو پورا کرنے کے لیے 100 سے زائد ایسی بوگیوں کو بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے جنہیں فوری اوورہالنگ کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریل گاڑیوں کے اچانک ڈی ریل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی غیر معیاری اور مکمل طور پر فِٹ نہ ہونے والی بوگیاں ہیں، کیونکہ جب کوچز محفوظ حالت میں نہ ہوں تو حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بوگیوں کی تعداد میں بروقت اضافے کے لیے کیرج ورکشاپ کو اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے تھے، تاہم ریلوے کیرج فیکٹری مقررہ وقت پر نئی بوگیاں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی وجہ سے لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت مختلف روٹس پر ٹرینوں کی آمد و رفت میں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر ہو رہی ہے۔
صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ بعض روٹس پر ایک ریل گاڑی کے اسٹیشن پہنچتے ہی اس کی بوگیاں فوری طور پر دوسری ریل گاڑی کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہیں، جبکہ بوگیوں کی کمی تیسری ٹرین سے پوری کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اگر مطلوبہ ریل گاڑی تاخیر یا حادثے کا شکار ہو جائے تو مسافروں کو بوگیاں کم کر کے دوسری ٹرینوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
ریلوے ٹریک کی خستہ حالی کے ساتھ ساتھ بوگیوں کی کمی بھی ٹرینوں کی روانگی اور آمد میں تاخیر کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ تاہم اس معاملے پر ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ اس وقت ریلوے کے پاس 1105 مسافر کوچز موجود ہیں اور کوچز کی کوئی کمی نہیں۔
ان کے مطابق 52 پاور پلانٹس درکار ہیں جبکہ 54 دستیاب ہیں، اور رواں ماہ کے اختتام تک مزید 50 کوچز سسٹم میں شامل کر دی جائیں گی، جس سے ٹرینوں کی اَپ گریڈیشن میں مدد ملے گی۔
ترجمان کے مطابق ضرورت کے مطابق کوچز سسٹم میں موجود ہیں اور بوگیوں کی قلت کا تاثر درست نہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاکستان ریلویز بوگیوں کی کمی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔