ایمپلائز اورپنشنرز کے حقوق کیلیے سکھر پریس کلب کے باہر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سندھ بھر کے ایمپلائز اور پنشنرز کے حقوق کے لیے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، سندھ ایمپلائز و پنشنرز کے دیرینہ مسائل اور جائز مطالبات کے حق میں سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں حاجی غلام حیدر بھاگت، عبداللہ، محمد جمن چنہ، منیر احمد ابڑو، دیدار حسین سمیت دیگر افراد نے شرکت کی اور حکومتِ سندھ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کے مطابق سندھ میں ایمپلائز اور پنشنرز شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مہنگائی میں بے پناہ اضافے کے باوجود سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات درج تھے۔احتجاجی بینر کے متن کے مطابق مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ ایمپلائز و پنشنرز کے مسائل پر فوری توجہ دیں۔ بینر میں واضح کیا گیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 2022ء کے بعد سے پنشن اور تنخواہوں میں مناسب اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ گروپ انشورنس، بینوولنٹ فنڈ اور دیگر واجبات کی ادائیگیاں بھی التوا کا شکار ہیں۔بینر میں درج مطالبات میں شامل ہے کہ صحت کارڈ کی سہولت فوری طور پر بحال کی جائے۔سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو مکمل سیکیورٹی اور تحفظ فراہم کیا جائے۔2022ء اور اس کے بعد کی بقایاجات اور ریٹائرمنٹ بینیفٹس جلد از جلد ادا کیے جائیں۔ گروپ انشورنس، بینوولنٹ فنڈ اور دیگر قانونی واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔سندھ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور پنشنرز پنشنرز کے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔