Express News:
2026-07-24@01:15:02 GMT

ہمارے جن ذی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

بیشک بلاتفریق موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی نااہلی، خود غرضی اور مفاد پرستی ناقابل تردید حقائق ہیں جس پر معاشی اور اقتصادی بحران اور بد حالی دلالت کر رہی ہے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسی پر سب جنریشنز یعنی سائلنٹ، بے بی بومرز، جن ایکس، میلینز، جن ذی اور یہاں تک جن الفا (2012 کے بعد پیدا ہونے والے بچے) بھی شامل ہیں، کا اجماع ہے۔ ہر ذی شعور پاکستانی چاہتا ہے کہ جبر، ظلم اور استحصال ختم، آئین و قانون بالادست، حقیقی جمہوریت اور ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ مگر اس کو صرف جن ذی کی خواہش بتانا اور ہر برائی کے لیے اپنے بزرگوں کو قصوروار اور نااہل قرار دینا ناانصافی کے ساتھ ساتھ بدتمیزی اور بداخلاقی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اکثریت اگر نااہل نہیں رہی تو ناعاقبت اندیش ضرور رہی ہے مگر اس کا ادراک بھی ملک کی نوجوان نسل سے زیادہ اس ملک کے بزرگوں کو ہے کیونکہ وہ چھ سات دہائیوں سے اپنے حکمرانوں کی نااہلیوں کے شاہد ہیں۔ اس لیے بلاتفریق تمام بزرگوں یا حکمرانوں کو نااہل قرار دینا درست نہیں ہے۔

بے بی بومرز میں 60 سے 78 سال کے بزرگ مرد و زن سب شامل ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ نئی نسل کے چند لونڈے لپاڑے اب 60 سے 78 سال کے بزرگوں کو مخاطب ہوکر کہیں کہ آپ کا وقت گزر چکا ہے اور ہم آپ کی باتیں یا نصیحتیں نہیں مانیں گے۔ اس سوچ کو ڈالرز کے بھوکے سوشل میڈیا کے مادر پدر آزاد ڈیجیٹل دہشت گردوں نے پروان چڑھا کر ہماری معاشرتی اقدار کا جنازہ نکالا، چھوٹے بڑے کی تمیز ختم کرکے بیٹے کو باپ کے سامنے لا کھڑا کردیا ہے۔

میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری مہذب نوجوان نسل ایسی نہیں ہے، بس سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی اسیر ایک مخصوص کلاس کے خوشحال اور فیشن ایبل نونہال ہیں جو خود کو فخریہ ’’جن ذی‘‘ کہتے ہیں، وہ دوسروں کے تو چھوڑیں، اپنے بزرگوں کا احترام بھی معیوب سمجھتے ہیں۔ ’’جن ذی‘‘ یہ یاد رکھیں کہ ذہانت کے بل بوتے پر تو پی ایچ ڈی کی ڈگری چند مہینوں میں توحاصل کی جا سکتی ہے مگر کوئی نام نہاد ’’جن ذی‘‘ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے دس برس کا تجربہ ایک دن میں حاصل کرلیا ہے۔

دس سال کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے اپنی عمر کے پورے دس سال خرچ کرنے پڑتے ہیں، تجربے کا کوئی مول نہیں اس لیے بزرگوں کو سننا اور ان کا کہا ماننا ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے مگر سوشل میڈیا زدہ جن ذی اخلاقی انحطاط کے ایسے اندھے کنویں میں گر چکے ہیں کہ ان کے خیال میں صرف اقتدار میں بیٹھے بزرگ ہی نہیں ان کے اپنے سگے دادا، دادی، نانا، نانی، ماں باپ، بڑے بہن، بھائی، اساتذہ اور معاشرے کے تمام بزرگ وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں اور ان کے لیے بھی سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔ خاندان کے بڑے چاہے جتنے جتن کر لیں، اساتذہ کرام چاہے جتنے لیکچردیں، تعلیمی اور دیگر قومی ادارے چاہے جتنے سیمینار منعقد کر لیں سوشل میڈیا زدہ جن ذی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

بیشک حب الوطنی اور اپنی تہذیبی اقدار سے محبت زبردستی پیدا نہیں کی جاسکتی، یہ نسل در نسل خون میں پلتی، ملتی اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے بڑوں کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصلی اور نسلی محب وطن کو دنیا کی کوئی طاقت یا ناانصافی غدار نہیں بنا سکتی۔ محب وطن مرتا بھی محب وطن ہی ہے چاہے بھوک و افلاس سے مرے یا ناانصافی سے مرے وہ اپنی مٹی سے پیار کے کفن میں دفن ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا زدہ جن ذی کا خیال ہے وہ اور اس کے بعد آنے والی جن الفا (12 سال اور اس سے کم عمر کے بچے )، بخوبی جانتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے" ان کے خیال میں سوشل میڈیا کی بدولت 12 سال سے کم عمر بچوں نے بھی معلومات کی بنیاد پر فہم و فراست میں بزرگوں کو مات دے دی ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اگر عقل و شعور اور بے بی بومرز (بزرگوں) کی نگرانی میں استعمال کیا جائے تو یہ بہترین اور مفید ایجادات ہیں مگر افسوس کہ غلط استعمال سے یہ ہمارے جن ذی کے لیے دودھاری تلوار ، طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع ثابت ہو رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اس کا اپنا ٹی وی چینل ہے اس کے جی میں جو آتا ہے وہ بک لیتا ہے، بلا تحقیق صبح سے شام تک جھوٹ بولتے، بزرگوں کی پگڑیاں اچھالتے اور مادر وطن کے بارے میں زہر آلود نشتر بازی کرکے جن ذی (نسل نو) کے ذہنوں میں بغاوت کی غلاظت بھرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی افواج نے انڈین جارحیت کا دندان شکن و بے مثل جواب دیا ہے، اسے دشمن بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ایسے میں اس حوالے سے کسی غلط بات کا سامنے آنا بہت زیادتی ہے۔ پاک فوج کے ہوابازوں نے انڈیا کے جہاز جس طرح پھڑکائے ، اس کے بعد ہندو بنئیے 6 اور 7 کے ہندسے کو دیکھ کر شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ ریاضی کے نصاب سے 6 اور 7 کا ہندسہ حذف کرکے 5 کے بعد 8 کردیں گے۔

ہمارے جن ذی(بچے) یہ سمجھ لیں کہ بے بی بومرز اور میلینز اپنی ذہانت اور فراست سے جنگیں روکتے ہیں مسلط نہیں کرتے۔یاد رکھیں سیکیورٹی کے بغیر گھر یا دفتر سے نکلنا عوامی مقبولیت کا پیمانہ بالکل نہیں رہا، آج ہر پاکستانی خصوصاً حکمران، فورسز کے ذمے داران اور اعلی عہدوں پر فائز افراد دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ دنیا بھر میں اہم شخصیات کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہوتی ہے۔

نسل نو اور ان کے اپنے بزرگوں کے درمیان فاصلے ہونے کا تاثر بھی سوشل میڈیا کے مخصوص مائنڈسیٹ کے حامل لونڈے لپاڑوں نے پیدا کیا ہے، اگر ان کو لگام ڈال دی جائے تو کسی کو نوجوانوں اور بزرگوں کے درمیان کوئی فاصلہ نظر نہیں آئے گا۔ بیشک حکمرانوں اور سیاست دانوں کی تقاریر بعض اوقات ناقابل برداشت ہوتی ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا زدہ جن ذی تو خاندان کے بزرگوں کو سننا بھی گوارا نہیں کرتی، ان کی باتیں ان کو مضحکہ خیز لگتی ہیں اور ان سے دور بھاگتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے لونڈے لپاڑوں کی شرانگیزی کی وجہ سے تہذیبی اقدار اور رویے بدل رہے ہیں، اس لیے اپنے جن ذی کو مشورہ دوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ جن الفا نے جن ذی کا وہ حشر کرنا ہے کہ الامان الحفیظ، ان کو صرف آپ کی باتیں نہیں شکلیں بھی مضحکہ خیز لگے گی۔ اس لیے میں سوشل میڈیا زدہ جن ذی کو بے بی بومرز کے دامن پکڑنے، دعائیں لینے اور ان کی حکمت و دانائی سے لبریز باتیں دل کے کانوں سے سننے اور تجربات سے سبق سیکھنے کا مشورہ دوں گا۔ شکر الحمدللہ اس ملک کے وہ جن ذی جو سوشل میڈیا زدہ نہیں مکمل طور پر متحرک، پرعزم، باادب اور اخلاقی اقدار کا پاسدار ہے ان کا بہتر روزگار اور مستقبل کے لیے بیرون ملک جانا عقلمندی اور حق ہے اسے بے بی بومرز سے بیزاری سے تعبیر کرنا لونڈے لپاڑوں کا خبط باطن اور سوچ ہے جسے وہ ڈالر کمانے کے شوق میں پروان چڑھا رہے ہیں۔

 بے بی بومرز کے لیے کچھ بھی ختم نہیں ہوا، ملک و ملت اور ہر گھر کو بزرگوں کے تجربے سے استفادے اور جن ذی اور جن الفا کے سروں پر ان کے دست شفقت کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے بے بی بومرز کو کامل روحانی جسمانی صحتوں کے ساتھ جن ذی کی راہنمائی کے لیے عمر خضر سے نوازیں۔ آمین۔ بے بی بومرز (بزرگوں) کے جن ذی (بچے) اس ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہے اس لیے بے بی بومرز اپنے جن ذی کے بارے میں فکر مند ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا زدہ جن ذی سوشل میڈیا کے حکمرانوں کی بزرگوں کو جن الفا اور اس کے بعد کے لیے اس لیے اور ان

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف