بیشک بلاتفریق موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی نااہلی، خود غرضی اور مفاد پرستی ناقابل تردید حقائق ہیں جس پر معاشی اور اقتصادی بحران اور بد حالی دلالت کر رہی ہے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسی پر سب جنریشنز یعنی سائلنٹ، بے بی بومرز، جن ایکس، میلینز، جن ذی اور یہاں تک جن الفا (2012 کے بعد پیدا ہونے والے بچے) بھی شامل ہیں، کا اجماع ہے۔ ہر ذی شعور پاکستانی چاہتا ہے کہ جبر، ظلم اور استحصال ختم، آئین و قانون بالادست، حقیقی جمہوریت اور ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ مگر اس کو صرف جن ذی کی خواہش بتانا اور ہر برائی کے لیے اپنے بزرگوں کو قصوروار اور نااہل قرار دینا ناانصافی کے ساتھ ساتھ بدتمیزی اور بداخلاقی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اکثریت اگر نااہل نہیں رہی تو ناعاقبت اندیش ضرور رہی ہے مگر اس کا ادراک بھی ملک کی نوجوان نسل سے زیادہ اس ملک کے بزرگوں کو ہے کیونکہ وہ چھ سات دہائیوں سے اپنے حکمرانوں کی نااہلیوں کے شاہد ہیں۔ اس لیے بلاتفریق تمام بزرگوں یا حکمرانوں کو نااہل قرار دینا درست نہیں ہے۔
بے بی بومرز میں 60 سے 78 سال کے بزرگ مرد و زن سب شامل ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ نئی نسل کے چند لونڈے لپاڑے اب 60 سے 78 سال کے بزرگوں کو مخاطب ہوکر کہیں کہ آپ کا وقت گزر چکا ہے اور ہم آپ کی باتیں یا نصیحتیں نہیں مانیں گے۔ اس سوچ کو ڈالرز کے بھوکے سوشل میڈیا کے مادر پدر آزاد ڈیجیٹل دہشت گردوں نے پروان چڑھا کر ہماری معاشرتی اقدار کا جنازہ نکالا، چھوٹے بڑے کی تمیز ختم کرکے بیٹے کو باپ کے سامنے لا کھڑا کردیا ہے۔
میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری مہذب نوجوان نسل ایسی نہیں ہے، بس سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی اسیر ایک مخصوص کلاس کے خوشحال اور فیشن ایبل نونہال ہیں جو خود کو فخریہ ’’جن ذی‘‘ کہتے ہیں، وہ دوسروں کے تو چھوڑیں، اپنے بزرگوں کا احترام بھی معیوب سمجھتے ہیں۔ ’’جن ذی‘‘ یہ یاد رکھیں کہ ذہانت کے بل بوتے پر تو پی ایچ ڈی کی ڈگری چند مہینوں میں توحاصل کی جا سکتی ہے مگر کوئی نام نہاد ’’جن ذی‘‘ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے دس برس کا تجربہ ایک دن میں حاصل کرلیا ہے۔
دس سال کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے اپنی عمر کے پورے دس سال خرچ کرنے پڑتے ہیں، تجربے کا کوئی مول نہیں اس لیے بزرگوں کو سننا اور ان کا کہا ماننا ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے مگر سوشل میڈیا زدہ جن ذی اخلاقی انحطاط کے ایسے اندھے کنویں میں گر چکے ہیں کہ ان کے خیال میں صرف اقتدار میں بیٹھے بزرگ ہی نہیں ان کے اپنے سگے دادا، دادی، نانا، نانی، ماں باپ، بڑے بہن، بھائی، اساتذہ اور معاشرے کے تمام بزرگ وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں اور ان کے لیے بھی سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔ خاندان کے بڑے چاہے جتنے جتن کر لیں، اساتذہ کرام چاہے جتنے لیکچردیں، تعلیمی اور دیگر قومی ادارے چاہے جتنے سیمینار منعقد کر لیں سوشل میڈیا زدہ جن ذی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
بیشک حب الوطنی اور اپنی تہذیبی اقدار سے محبت زبردستی پیدا نہیں کی جاسکتی، یہ نسل در نسل خون میں پلتی، ملتی اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے بڑوں کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصلی اور نسلی محب وطن کو دنیا کی کوئی طاقت یا ناانصافی غدار نہیں بنا سکتی۔ محب وطن مرتا بھی محب وطن ہی ہے چاہے بھوک و افلاس سے مرے یا ناانصافی سے مرے وہ اپنی مٹی سے پیار کے کفن میں دفن ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا زدہ جن ذی کا خیال ہے وہ اور اس کے بعد آنے والی جن الفا (12 سال اور اس سے کم عمر کے بچے )، بخوبی جانتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے" ان کے خیال میں سوشل میڈیا کی بدولت 12 سال سے کم عمر بچوں نے بھی معلومات کی بنیاد پر فہم و فراست میں بزرگوں کو مات دے دی ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اگر عقل و شعور اور بے بی بومرز (بزرگوں) کی نگرانی میں استعمال کیا جائے تو یہ بہترین اور مفید ایجادات ہیں مگر افسوس کہ غلط استعمال سے یہ ہمارے جن ذی کے لیے دودھاری تلوار ، طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع ثابت ہو رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اس کا اپنا ٹی وی چینل ہے اس کے جی میں جو آتا ہے وہ بک لیتا ہے، بلا تحقیق صبح سے شام تک جھوٹ بولتے، بزرگوں کی پگڑیاں اچھالتے اور مادر وطن کے بارے میں زہر آلود نشتر بازی کرکے جن ذی (نسل نو) کے ذہنوں میں بغاوت کی غلاظت بھرتے رہتے ہیں۔
پاکستانی افواج نے انڈین جارحیت کا دندان شکن و بے مثل جواب دیا ہے، اسے دشمن بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ایسے میں اس حوالے سے کسی غلط بات کا سامنے آنا بہت زیادتی ہے۔ پاک فوج کے ہوابازوں نے انڈیا کے جہاز جس طرح پھڑکائے ، اس کے بعد ہندو بنئیے 6 اور 7 کے ہندسے کو دیکھ کر شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ ریاضی کے نصاب سے 6 اور 7 کا ہندسہ حذف کرکے 5 کے بعد 8 کردیں گے۔
ہمارے جن ذی(بچے) یہ سمجھ لیں کہ بے بی بومرز اور میلینز اپنی ذہانت اور فراست سے جنگیں روکتے ہیں مسلط نہیں کرتے۔یاد رکھیں سیکیورٹی کے بغیر گھر یا دفتر سے نکلنا عوامی مقبولیت کا پیمانہ بالکل نہیں رہا، آج ہر پاکستانی خصوصاً حکمران، فورسز کے ذمے داران اور اعلی عہدوں پر فائز افراد دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ دنیا بھر میں اہم شخصیات کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہوتی ہے۔
نسل نو اور ان کے اپنے بزرگوں کے درمیان فاصلے ہونے کا تاثر بھی سوشل میڈیا کے مخصوص مائنڈسیٹ کے حامل لونڈے لپاڑوں نے پیدا کیا ہے، اگر ان کو لگام ڈال دی جائے تو کسی کو نوجوانوں اور بزرگوں کے درمیان کوئی فاصلہ نظر نہیں آئے گا۔ بیشک حکمرانوں اور سیاست دانوں کی تقاریر بعض اوقات ناقابل برداشت ہوتی ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا زدہ جن ذی تو خاندان کے بزرگوں کو سننا بھی گوارا نہیں کرتی، ان کی باتیں ان کو مضحکہ خیز لگتی ہیں اور ان سے دور بھاگتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے لونڈے لپاڑوں کی شرانگیزی کی وجہ سے تہذیبی اقدار اور رویے بدل رہے ہیں، اس لیے اپنے جن ذی کو مشورہ دوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ جن الفا نے جن ذی کا وہ حشر کرنا ہے کہ الامان الحفیظ، ان کو صرف آپ کی باتیں نہیں شکلیں بھی مضحکہ خیز لگے گی۔ اس لیے میں سوشل میڈیا زدہ جن ذی کو بے بی بومرز کے دامن پکڑنے، دعائیں لینے اور ان کی حکمت و دانائی سے لبریز باتیں دل کے کانوں سے سننے اور تجربات سے سبق سیکھنے کا مشورہ دوں گا۔ شکر الحمدللہ اس ملک کے وہ جن ذی جو سوشل میڈیا زدہ نہیں مکمل طور پر متحرک، پرعزم، باادب اور اخلاقی اقدار کا پاسدار ہے ان کا بہتر روزگار اور مستقبل کے لیے بیرون ملک جانا عقلمندی اور حق ہے اسے بے بی بومرز سے بیزاری سے تعبیر کرنا لونڈے لپاڑوں کا خبط باطن اور سوچ ہے جسے وہ ڈالر کمانے کے شوق میں پروان چڑھا رہے ہیں۔
بے بی بومرز کے لیے کچھ بھی ختم نہیں ہوا، ملک و ملت اور ہر گھر کو بزرگوں کے تجربے سے استفادے اور جن ذی اور جن الفا کے سروں پر ان کے دست شفقت کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے بے بی بومرز کو کامل روحانی جسمانی صحتوں کے ساتھ جن ذی کی راہنمائی کے لیے عمر خضر سے نوازیں۔ آمین۔ بے بی بومرز (بزرگوں) کے جن ذی (بچے) اس ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہے اس لیے بے بی بومرز اپنے جن ذی کے بارے میں فکر مند ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا زدہ جن ذی سوشل میڈیا کے حکمرانوں کی بزرگوں کو جن الفا اور اس کے بعد کے لیے اس لیے اور ان
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔