بیٹنگ کے دوران واپس بلائے جانے پر محمد رضوان کا موقف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ میں بگ بیش لیگ چھوڑ کر واپسآرہا ہوں، معاہدہ پورا نہ کرنے کی باتیں جھوٹی ہیں،محمد رضوان
کراچی (اسپورٹس ڈیسک )بگ بیش لیگ میں بیٹنگ کے دوران واپس بلائے جانے پر محمد رضوان کا موقف بھی سامنے آگیا۔محمد رضوان کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ میں بگ بیش لیگ چھوڑ کر واپس ا?رہا ہوں، معاہدہ پورا نہ کرنے کی باتیں جھوٹی ہیں۔محمد رضوان کیمطابق کپتان کی بات ماننا میرا فرض ہے، ہمارا مذہب بھی اس بات کی تقلین کرتاہیکہ اپنیامیر کی اطاعت کریں، وہ جوکہے اس پر لبیک کہیں، میچ میں کپتان امیر ہوتاہے۔میچ کی سچوئشن کیمطابق کپتان نے جو بھی فیصلہ کیا، اس پر عمل کرنا ضروری تھا۔ واپس بلائے جانے کا کوئی گلہ نہیں، میچ کے بعد کوچ اور کپتان نے مجھ سیاس بارے میں بات کرکے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ معذرت بھی کی۔بگ بیش لیگ معاہدیکے تحت میچز کے لییاپنی ٹیم ملبورن رینی گیڈ کو دستیاب ہوں۔ لیگ چھوڑنیکی باتیں جھوٹ ہیں۔یاد رہے کہ دو روزپہلے کپتان نے تئیس گیندوں پر چھبیس رنز پر محمد رضوان کو واپس بلالیا تھا،رضوان کی جگہ سدرلینڈ جب خود بیٹنگ کرنیگئے تو صرف ایک رنز پر آوٹ ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد رضوان بگ بیش لیگ کی بات
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔