جماعت اسلامی بدین کے مرحوم رہنماء شوکت شیخ کی یاد میں تعزیتی اجتماع
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (جسارت نیوز)جماعت اسلامی بدین کے سابق امیر اور جماعت اسلامی کے سینئر بزرگ رہنما مرحوم شوکت شیخ کی یاد میں ماتلی میں ایک بڑا تعزیتی اجتماع منعقد ہوا، جس میں جماعت کے کارکنان، ضلعی و مقامی قائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی سندھ کے سابق امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ مرحوم شوکت شیخ نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کے قیام، اس کے غلبے اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے بدین کے ہر علاقے، گاؤں گاؤں اور محلہ محلہ جماعتِ اسلامی کا پیغام پہنچایا اور دعوتی و تنظیمی سطح پر ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ، سابق نائب امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ مرحوم شوکت شیخ ایک بااصول، دیانت دار اور نظریاتی رہنما تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی جماعتِ اسلامی کے نظم و ضبط، عوامی خدمت اور کارکنان کی تربیت کے لیے وقف رکھی۔ ان کی قیادت میں بدین میں جماعت کی تنظیم مضبوط ہوئی۔اجتماع سے جماعتِ اسلامی سندھ کے سابق امیر محمد حسین محنتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم شوکت شیخ کے دروازے ہمیشہ جماعت کے قائدین اور کارکنوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ وہ خلوص، قربانی اور مہمان نوازی کی عملی تصویر تھے اور آخری دم تک اقامتِ دین کی جدوجہد سے وابستہ رہے۔اس موقع پر جماعتِ اسلامی بدین کے امیر انجینئر سید علی مردان شاہ گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم شوکت شیخ جماعتِ اسلامی بدین کے سینئر بزرگ رہنما تھے جنہوں نے کئی دہائیوں تک جماعت کی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے بدین میں جماعتِ اسلامی کی دعوت، تنظیم اور تربیت کے کام کو منظم بنیادوں پر فروغ دیا۔ وہ نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور ہر کارکن کو ذاتی توجہ دے کر آگے بڑھاتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کی پوری زندگی جماعتِ اسلامی کے مشن سے وابستہ رہی اور یہ انہی کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد بھی آج جماعتِ اسلامی میں فعال اور نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ مرحوم شوکت شیخ کی خدمات کو جماعت ہمیشہ یاد رکھے گی۔آخر میں مرحوم شوکت شیخ کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ مرحوم شوکت شیخ اسلامی بدین کے خطاب کرتے ہوئے شوکت شیخ کی کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں