data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام آج سے پنجاب کے بلدیاتی قانون پر عوامی ردعمل جاننے کے لیے ریفرنڈم کا آغاز ہوگا ، شفاف اور آزاد ریفرنڈم میں کروڑوں لوگ رائے کا اظہار کریں گے۔ عوامی رائے کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ کا شیڈول دیں گے۔ یہ اعلانات امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔ انہوں نے اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے اس کی منسوخی اور وفاقی دارالحکومت میں سابق شیڈول کے مطابق 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا اور آرڈیننس کے خلاف عدالت جانے کا بھی اعلان کیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ریفرنڈم 4 روز تک جاری رہے گا۔ چوکوں ، چوراہوں، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیمپ لگائے جائیں گے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل مکمل ہوگیا۔ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے مرکز اور اضلاع کی سطح پر آزاد ریفرنڈم کمیشن تشکیل دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بااختیار بلدیاتی نظام اور طلبہ یونین کو جمہوریت کی نرسری قرار دیا تاہم اس امر پر افسوس اور خفگی کا اظہار کیا کہ ملک کی نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیوں میں ایک بھی جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کو بااختیار بنانے کی بات نہیں کررہی۔ ملک میں طلبہ یونین پر پابندی ہے اور بلدیاتی نظام کا وجود تک نہیں۔ انگریز کی تربیت یافتہ افسر شاہی تمام اختیارات پر قابض ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بیوروکریسی عوامی نمائندوں کے ماتحت ہونی چاہیے۔اسلام آباد کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں 23 ہزار درخت کاٹ دیے گئے، دنیا بھر میں ماحولیات کے تحفظ کا واویلا کرنے والا حکمران طبقہ خود ماحول برباد کررہا ہے۔حکومت میں شامل سیاسی پارٹیاں درختوں کی کٹائی پر نورا کشتی کرکے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں میں درخت کاٹنے کے ذمے داران کا تعین کرکے انہیں جیل بھیجا جائے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے چند سیکٹرز کے علاوہ باقی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، سیوریج کا نظام تباہ حال ہے۔ شہر میں پانی کے مسائل ہیں، پانی سطح زمین سے نیچے جارہا ہے۔ مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ نئے بلدیاتی آرڈیننس میں اسلام آباد کو3 شہروں میں تقسیم کردیا گیا۔ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں لاہور کو ٹاؤن کا درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب کے بلدیاتی قانون میں وہ تمام اختیارات شامل کیے جائیں جو آئین کی دفعہ 140اے میں متعین ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ترامیم سے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا، ترامیم وہی لارہے ہیں جو فارم 47 لے کر آئے تھے۔ موجودہ مسلط حکمران عوام سے خوفزدہ ہیں۔ پنجاب کا بلدیاتی قانون غیر جمہوری اور آئین سے متصادم ہے۔ پہلے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں انسانوں کی منڈی لگتی تھی اب غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے حکمران خاندان یہ منڈی نچلی سطح تک لے کر جانا چاہتے ہیں۔ پورے کا پورا نظام ہی فرسودہ ہے جسے تبدیل ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی نظام ہی کی تبدیلی کے لیے کوششیں کررہی ہے۔ بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے جدوجہد دراصل نظام تبدیلی کی تحریک کا ہی حصہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، ایران کے عوام کو ورغلایا اور اکسایا جارہا ہے۔ امریکی صدر نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کیا۔ روس اور چین کو امریکی غندہ گردی کے خلاف مضبوط موقف اپنانا چاہیے۔ پاکستان کے حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے پر شرمندگی کا اظہار کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو سیلوٹ مار کر قوم کے وقار کا سودا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا غزہ فوج بھیجنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پنجاب کے بلدیاتی قانون حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی اسلام ا باد بلدیاتی ا نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی