اسلام آباد ہائیکورٹ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں کے اندر ہائیکورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں۔ یہ حکم جسٹس محسن اختر کیانی نے پی ٹی سی ایل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز کو بھی رولز کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ دوران سماعت، وکیل سے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کی تفصیلات کے بارے میں استفسار کیا گیا تو وکیل نے لاعلمی ظاہر کی۔ جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ “ہم نے وہ ہائیکورٹ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے، میں جج ہوں اور مجھے نہیں ملے، آپ کو کیسے ملیں گے۔”
جسٹس نے مزید کہا کہ فل کورٹ نے رولز منظور کیے مگر انہیں عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا، اور رولز ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ قرار دیا۔ عدالت نے وکیل کو ہدایت دی کہ رجسٹرار کو درخواست دے کر رولز حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
معزز جج نے واضح کیا کہ 48 گھنٹوں میں رولز ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہ کیے گئے تو رجسٹرار کے خلاف کریمنل پروسیجر کا آغاز کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔