data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260114-08-26
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آ فریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (سندھ ہائی کورٹ) کا اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کا مستقل تقرر، آئینی بینچز کی تشکیل نو اور ان کی مدت میں توسیع سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اپنے کل ارکان کی اکثریت سے متعلقہ ڈیٹا فارمز، کردار و پس منظر (Antecedents) اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے جن ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق کی سفارش کی۔ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ ،جسٹس ریاضت علی سحر،جسٹس محمد حسن، جسٹس عبد الحمید بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس محمد عثمان علی ہادی، جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی سفارش کی گئی۔اسی طرح جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچز کے لیے ججز نامزد کرنے کے ساتھ ساتھ آئینی بنچز کی مدت میں بھی 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی۔آئینی بنچز کے لیے نامزد ججز میں جسٹس امجد علی بوہیو،جسٹس محمد حسن (اکبر)،جسٹس محمد عثمان علی ہادی شامل ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ ہائی کورٹ کے جوڈیشل کمیشن ایڈیشنل ججز ا ف پاکستان کورٹ کے ا

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش