سجاس ایوارڈ، ملک کا نام روشن کرنے والے کھلاڑی قابل فخر ہیں ، صوبائی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسپورٹس رپورٹر) اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن ا?ف سندھ (سجاس) کے تحت سالانہ ایوارڈز 2025 کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں باصلاحیت کھلاڑیوں، صحافیوں اور اسپورٹس سے وابستہ شخصیات کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں ایوارڈ اور گولڈ میڈلز سے نوازا گیا، اس موقع پر عمرے کی ادائیگی کے لیے کی جانے والی قرعہ اندازی میں سجاس کے چار خوش نصیب ممبران فیضان لاکھانی، عارف میمن، فیضان مصطفیٰ نقی اور انیس الرحمن کے نام سامنے آئے جبکہ ان کے متبادل کے طور پر سلیمان خان، عبید اعوان، ریاض الدین اور شہزاد علی شہزی شامل ہیں، تقریب کے دوران اے آئی پی ایس کیمبر شپ حاصل کرنے والے سجاس ممبران میں ممبرشپ کارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سندھ سردار محمد بخش خان مہر تھے، جبکہ چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اسپورٹس سینیٹر رانا محمود اور سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز سندھ سید منور علی مہسر نے بھی خصوصی شرکت کی۔ دیگر معزز مہمانوں میں ٹرسٹیز سجاس ڈاکٹر جنید علی شاہ، خواجہ احمد مستقیم، ڈی جی پی آئی ڈی محترمہ ارم تنویر، ارکان سندھ اسمبلی شارق جمال، آصف موسیٰ، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری محمد اسلم خان اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی سیکریٹری لبنیٰ جرار، پی ایف یو جے کے سابق صدر جی ایم جمالی شامل تھے، مہمانوں نے کھلاڑیوں اور صحافیوں میں ایوارڈز تقسیم کیے۔اس موقع پر صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے فروغ میں سجاس کا کردار قابلِ تحسین ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے سجاس کی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ہم سب کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ سجاس کے ایوارڈ ونر آج بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کررہے ہیں، سنیٹر رانا محمودالحسن کا کہنا تھا کہ آج میڈیا انڈسٹری مالی مشکلات اور پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے تاہم اس دور میں بھی سجاس نے اپنی روایت برقرار رکھ کر ثابت کردیا کہ جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم ہے، پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل محمد اصغر عظیم نے خطب? استقبالیہ پیش کیا،سجاس کے سیکریٹری شاہد ساٹی نے تنظیم کی کارکردگی پر روشنی ڈالی جبکہ میزبانی کے فرائض سجاس کے صدر محمود ریاض نے انجام دیئے اور تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں اور شرکاء کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے دوران جونیئر ایتھلیٹس کو سجاس کے بانی رکن اور پہلے منتخب صدر مرحوم راشد علی صدیقی کے نام سے منسوب یوتھ ٹیلنٹ ایوارڈز، سال 2025 کے دوران مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں، آرگنائزر اور اسپورٹس جرنلسٹس کو ان کی خدمات کے اعتراف میں سجاس ایوارڈ اور گولڈ میڈلز سمیت کیش ایوارڈ سے نوازا گیا، راشد صدیقی یوتھ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں 35 ویں نیشنل گیمز کراچی میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی 9 برس کی جونیئر ایتھلیٹ کائنات خلیل، نیشنل گیمز میں تین طلائی تمغے حاصل کرنے والی پیرا ایتھلیٹ حریم ملک، ورلڈ اسکریبل چیمپئن تیمور وسیم کتھری، نیشنل جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں رنراپ علینہ آصف، انڈر نائن اسکواش چیمپئن محمد آیان، بہترین پیڈل ٹینس کھلاڑی نفیس یعقوب اور نیشنل جونیئر ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں سلور میڈل جیتنے والے محمد عباس شامل تھے۔ سجاس ایتھلیٹس ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں ٹیبل ٹینس کی نیشنل چیمپئن حائقہ حسن، سنگاپور کپ جیتنے والی لیاری فٹبال اکیڈمی کے کپتان اریان رحیم، بہترین کرکٹر سعد بیگ، دنیا کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے والے کوہ پیما اسد علی میمن، بین الاقوامی سائیکلسٹ گولڈ میڈلسٹ علی الیاس، پیڈل ٹینس کھلاڑی نتالیہ زمان، بین الاقوامی میراتھن رنر فیصل شفیع اور گدھا گاڑی ریسنگ کے آل ریس ونر عارف قادری شامل تھے، سجاس بہترین اسپورٹس آرگنائزر ایوارڈز کراٹے میں نمایاں خدمات پر نسیم قریشی اور ملٹی پل اسپورٹس آرگنائزر کا ایوارڈ نیا ناظم آباد جمخانہ کے صدر محمد طلحہ کے نام رہا، اے آئی پی ایس ایمرجنگ جرنلسٹ ایوارڈ جیتنے والی پاکستان کی پہلی خاتون صحافی انجینئر انوشے،اے آئی پی ایس اسپورٹس ڈاکیومنٹری ایوارڈ جیتنے والے ریڈیو پاکستان سے وابستہ انیس الرحمن، اے آئی پی ایس اسپورٹس کمیٹی کے رکن محمد آصف خان، اور اسپورٹس جرنلزم سے وابستہ بین الاقوامی میراتھن رنر جیو نیوز کے ڈپٹی اسپورٹس ہیڈ فیضان لاکھانی، ایس ایم ایس پرائیویٹ لمیٹڈ، چیمپئنز ٹرافی 2025 کے موقع پر آئی سی سی کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں پہلی بار ٹو وے کارپیٹ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والے ایس ایم ایس کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر جاوید علی، سجاس کے لئے گراں قدر خدمات انجام دینے پر روزنامہ جہاں پاکستان کے فوٹوگرافر جاوید اقبال، ڈیلی دی نیوز کے خرم محمود اور سماجی کارکن احمد چوہان کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا، سجاس ممبران کی خدمت کے اعتراف میں صدر محمود ریاض اور جنرل سیکریٹری محمد شاہد عثمان ساٹی کو بھی خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں۔ سجاس جرنلسٹس ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں طارق اسلم (بہترین اسپورٹس رپورٹر)، عمر شاہین (بہترین اسپورٹس مضمون نگار)، عارف میمن (بہترین اسپورٹس ایڈیٹر)، نبیل طاہر (بہترین اسپورٹس رپورٹر، انگریزی میڈیا) اور سلیمان خان (بہترین اسپورٹس فوٹوگرافر) شامل تھے، الیکٹرانک میڈیا کی کیٹیگری میں عباداللہ خان بہترین رپورٹر، اکبر علی بہترین اسپورٹس ایڈیٹر، فیضان مصطفیٰ نقی بہترین پروڈیوسر اور عبدالرشید بہترین اسپورٹس کیمرہ مین کا ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں شامل تھے، بہترین ویمن اسپورٹس اینکر کا ایوارڈز سویرا پاشا اور مینز کا ایوارڈ نسیم راجپوت کے نام رہا، ڈیجیٹل میڈیا ایوارڈ جیو سپر کے مزمل آصف، بہترین اسپورٹس پریزینٹر ریڈیو کا ایوارڈ مقصود احمد اور بہترین بین الاقوامی مبصر/ کمنٹیٹر کا ایوارڈ ریاض الدین صدیقی (ہاکی) حاصل کرنے میں کامیاب رہے، آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن (انڈر 17) محمد حسنین اختر کو سجاس گولڈ میڈل کے ساتھ 50 ہزار روپے کیش جبکہ ڈیلی ڈان کے سینئر اسپورٹس جرنلسٹ انور زبیری کو سجاس ڈاکٹر ایم اے شاہ گولڈ میڈل کے ساتھ 50 ہزار روپے کیش ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حاصل کرنے والوں میں بہترین اسپورٹس اسپورٹس رپورٹر اے ا ئی پی ایس بین الاقوامی سے نوازا گیا کرنے والے اسپورٹس ا کا ایوارڈ تقریب کے شامل تھے سجاس کے کے نام
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔