data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسپورٹس رپورٹر) اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن ا?ف سندھ (سجاس) کے تحت سالانہ ایوارڈز 2025 کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں باصلاحیت کھلاڑیوں، صحافیوں اور اسپورٹس سے وابستہ شخصیات کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں ایوارڈ اور گولڈ میڈلز سے نوازا گیا، اس موقع پر عمرے کی ادائیگی کے لیے کی جانے والی قرعہ اندازی میں سجاس کے چار خوش نصیب ممبران فیضان لاکھانی، عارف میمن، فیضان مصطفیٰ نقی اور انیس الرحمن کے نام سامنے آئے جبکہ ان کے متبادل کے طور پر سلیمان خان، عبید اعوان، ریاض الدین اور شہزاد علی شہزی شامل ہیں، تقریب کے دوران اے آئی پی ایس کیمبر شپ حاصل کرنے والے سجاس ممبران میں ممبرشپ کارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سندھ سردار محمد بخش خان مہر تھے، جبکہ چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اسپورٹس سینیٹر رانا محمود اور سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز سندھ سید منور علی مہسر نے بھی خصوصی شرکت کی۔ دیگر معزز مہمانوں میں ٹرسٹیز سجاس ڈاکٹر جنید علی شاہ، خواجہ احمد مستقیم، ڈی جی پی آئی ڈی محترمہ ارم تنویر، ارکان سندھ اسمبلی شارق جمال، آصف موسیٰ، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری محمد اسلم خان اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی سیکریٹری لبنیٰ جرار، پی ایف یو جے کے سابق صدر جی ایم جمالی شامل تھے، مہمانوں نے کھلاڑیوں اور صحافیوں میں ایوارڈز تقسیم کیے۔اس موقع پر صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے فروغ میں سجاس کا کردار قابلِ تحسین ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے سجاس کی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ہم سب کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ سجاس کے ایوارڈ ونر آج بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کررہے ہیں، سنیٹر رانا محمودالحسن کا کہنا تھا کہ آج میڈیا انڈسٹری مالی مشکلات اور پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے تاہم اس دور میں بھی سجاس نے اپنی روایت برقرار رکھ کر ثابت کردیا کہ جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم ہے، پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل محمد اصغر عظیم نے خطب? استقبالیہ پیش کیا،سجاس کے سیکریٹری شاہد ساٹی نے تنظیم کی کارکردگی پر روشنی ڈالی جبکہ میزبانی کے فرائض سجاس کے صدر محمود ریاض نے انجام دیئے اور تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں اور شرکاء کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے دوران جونیئر ایتھلیٹس کو سجاس کے بانی رکن اور پہلے منتخب صدر مرحوم راشد علی صدیقی کے نام سے منسوب یوتھ ٹیلنٹ ایوارڈز، سال 2025 کے دوران مختلف کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں، آرگنائزر اور اسپورٹس جرنلسٹس کو ان کی خدمات کے اعتراف میں سجاس ایوارڈ اور گولڈ میڈلز سمیت کیش ایوارڈ سے نوازا گیا، راشد صدیقی یوتھ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں 35 ویں نیشنل گیمز کراچی میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی 9 برس کی جونیئر ایتھلیٹ کائنات خلیل، نیشنل گیمز میں تین طلائی تمغے حاصل کرنے والی پیرا ایتھلیٹ حریم ملک، ورلڈ اسکریبل چیمپئن تیمور وسیم کتھری، نیشنل جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں رنراپ علینہ آصف، انڈر نائن اسکواش چیمپئن محمد آیان، بہترین پیڈل ٹینس کھلاڑی نفیس یعقوب اور نیشنل جونیئر ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں سلور میڈل جیتنے والے محمد عباس شامل تھے۔ سجاس ایتھلیٹس ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں ٹیبل ٹینس کی نیشنل چیمپئن حائقہ حسن، سنگاپور کپ جیتنے والی لیاری فٹبال اکیڈمی کے کپتان اریان رحیم، بہترین کرکٹر سعد بیگ، دنیا کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے والے کوہ پیما اسد علی میمن، بین الاقوامی سائیکلسٹ گولڈ میڈلسٹ علی الیاس، پیڈل ٹینس کھلاڑی نتالیہ زمان، بین الاقوامی میراتھن رنر فیصل شفیع اور گدھا گاڑی ریسنگ کے آل ریس ونر عارف قادری شامل تھے، سجاس بہترین اسپورٹس آرگنائزر ایوارڈز کراٹے میں نمایاں خدمات پر نسیم قریشی اور ملٹی پل اسپورٹس آرگنائزر کا ایوارڈ نیا ناظم آباد جمخانہ کے صدر محمد طلحہ کے نام رہا، اے آئی پی ایس ایمرجنگ جرنلسٹ ایوارڈ جیتنے والی پاکستان کی پہلی خاتون صحافی انجینئر انوشے،اے آئی پی ایس اسپورٹس ڈاکیومنٹری ایوارڈ جیتنے والے ریڈیو پاکستان سے وابستہ انیس الرحمن، اے آئی پی ایس اسپورٹس کمیٹی کے رکن محمد آصف خان، اور اسپورٹس جرنلزم سے وابستہ بین الاقوامی میراتھن رنر جیو نیوز کے ڈپٹی اسپورٹس ہیڈ فیضان لاکھانی، ایس ایم ایس پرائیویٹ لمیٹڈ، چیمپئنز ٹرافی 2025 کے موقع پر آئی سی سی کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں پہلی بار ٹو وے کارپیٹ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والے ایس ایم ایس کمپنی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر جاوید علی، سجاس کے لئے گراں قدر خدمات انجام دینے پر روزنامہ جہاں پاکستان کے فوٹوگرافر جاوید اقبال، ڈیلی دی نیوز کے خرم محمود اور سماجی کارکن احمد چوہان کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا، سجاس ممبران کی خدمت کے اعتراف میں صدر محمود ریاض اور جنرل سیکریٹری محمد شاہد عثمان ساٹی کو بھی خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں۔ سجاس جرنلسٹس ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں طارق اسلم (بہترین اسپورٹس رپورٹر)، عمر شاہین (بہترین اسپورٹس مضمون نگار)، عارف میمن (بہترین اسپورٹس ایڈیٹر)، نبیل طاہر (بہترین اسپورٹس رپورٹر، انگریزی میڈیا) اور سلیمان خان (بہترین اسپورٹس فوٹوگرافر) شامل تھے، الیکٹرانک میڈیا کی کیٹیگری میں عباداللہ خان بہترین رپورٹر، اکبر علی بہترین اسپورٹس ایڈیٹر، فیضان مصطفیٰ نقی بہترین پروڈیوسر اور عبدالرشید بہترین اسپورٹس کیمرہ مین کا ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں شامل تھے، بہترین ویمن اسپورٹس اینکر کا ایوارڈز سویرا پاشا اور مینز کا ایوارڈ نسیم راجپوت کے نام رہا، ڈیجیٹل میڈیا ایوارڈ جیو سپر کے مزمل آصف، بہترین اسپورٹس پریزینٹر ریڈیو کا ایوارڈ مقصود احمد اور بہترین بین الاقوامی مبصر/ کمنٹیٹر کا ایوارڈ ریاض الدین صدیقی (ہاکی) حاصل کرنے میں کامیاب رہے، آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن (انڈر 17) محمد حسنین اختر کو سجاس گولڈ میڈل کے ساتھ 50 ہزار روپے کیش جبکہ ڈیلی ڈان کے سینئر اسپورٹس جرنلسٹ انور زبیری کو سجاس ڈاکٹر ایم اے شاہ گولڈ میڈل کے ساتھ 50 ہزار روپے کیش ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اسپورٹس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حاصل کرنے والوں میں بہترین اسپورٹس اسپورٹس رپورٹر اے ا ئی پی ایس بین الاقوامی سے نوازا گیا کرنے والے اسپورٹس ا کا ایوارڈ تقریب کے شامل تھے سجاس کے کے نام

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم