پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟ علی محمد خان نے بتایا دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور ادارے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائیں۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت اس لیے کرتی ہے کہ اس سے پورا علاقہ خالی کرنا پڑتا ہے، اور نقل مکانی کی وجہ سے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف بڑے آپریشن کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟ علی محمد خان نے بتایا دیا pic.
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026
انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کوئی پالیسی بنانا ہوگی، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو سیاست سے مبرا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگر دہشتگری کے خلاف ہم ایک نہیں ہوں گے تو اس کی قیمت ایک عام آدمی کو اپنے خون سے چکانی پڑ رہی ہے۔ ’اس کی قیمت ایک عام آدمی، پولیس اہلکار، فوجی جوان، رینجرز اور ایف سی والے چکاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ اگر آپ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خلاف کوئی پالیسی بنا لیں گے تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔
علی محمد خان نے مزید کہاکہ خدارا ایک دوسرے کو غدار غدار کہنا بند کریں، کیوں کہ اس کا فائدہ دہشتگرد اٹھاتے ہیں، کیوں کہ ان کو موقع مل جاتا ہے کہ یہ تو اندر سے ہی تقسیم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن پاکستان پی ٹی آئی دہشتگردی علی محمد خان نقل مکانی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پی ٹی ا ئی دہشتگردی علی محمد خان نقل مکانی وی نیوز دہشتگردی کے خلاف علی محمد خان نے انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔