7 افراد قتل کیس: پیپلز پارٹی کے رہنما محمد اسماعیل کی ضمانت منظور،رہائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر محمد اسماعیل کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
’بار بار پاورفل کہا جا رہا ہے، آخر ہے کون؟‘سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے بارے میں بار بار ’پاورفل‘ کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے بھی سوال اٹھایا ’کہا جا رہا ہے ملزم بہت پاورفل ہے، یہ ہے کون؟‘
وکیلِ صفائی کے دلائلملزم کے وکیل فرہاد ابڑو نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد اسماعیل کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر بھی رہ چکے ہیں، مگر انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔
وکیل نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ نے ملزم کے خلاف جھوٹی 15 ایف آئی آرز درج کروائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کو صرف ایک پراسیکیوشن گواہ کے بیان پر شاملِ تفتیش کیا گیا۔
سرکاری وکیل کی استدعا اور عدالت کی برہمیسرکاری وکیل نے عدالت سے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ مقدمے کا ریکارڈ تاحال دستیاب نہیں۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ منگوانا آپ کی ذمہ داری تھی، مذاق بنایا ہوا ہے، فائل کیوں نہیں منگوائی؟
مدعی مقدمہ کے وکیل کے اعتراضاتمدعی مقدمہ کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کی بیٹی کو اپنی حراست میں رکھا، اور سارا وقوعہ محمد اسماعیل کی ایماء پر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں 7 افراد قتل ہوئے۔
عدالت کے اہم ریمارکسجسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ’اگر 7 افراد قتل ہوئے تو ملزم کا نام پہلے روز ہی مقدمے میں ہونا چاہیے تھا۔‘
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 22 افراد کو نامزد کیا گیا لیکن محمد اسماعیل کا نام شروع میں شامل نہیں تھا۔
جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ ملزم تو آپ کی اپنی پارٹی کا بندہ ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے وکلا کو ہدایت کی کہ بار بار ملزم کے لیے بااثر ہونے کا لفظ استعمال نہ کریں۔
ضمانت کی منظوریدلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے محمد اسماعیل کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دے دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے محمد اسماعیل کی ملزم کے کہ ملزم کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔