وزیراعلیٰ خیبر پی کے قومی بیانیے میں دراڑ کیوں ڈالتے ہیں: طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی قومی پالیسی پر ابہام پیدا کرتی ہے۔ یہی پی ٹی آئی کی پالیسی ہے۔ سہیل آفریدی کہتے ہیں افغانستان کو دہشتگردی کے ثبوت دیں۔ کیا انہیں نہیں پتا دہشتگردی کہاں سے ہو رہی ہے۔ سال 2023ء میں سب سے زیادہ دہشتگردی کے واقعات ہوئے جو زیادہ تر واقعات خیبر پی کے میں ہوئے۔ یہ سیف سٹی نہیں بناتے۔ دہشتگرد گرفتار ہو سکتے ہیں۔ آپ سیاسی تحریک سو دفعہ چلائیں۔ وطن کیخلاف رویہ برداشت نہیں ہو گا۔ قومی بیانیے کیخلاف گفتگو ناقابل برداشت ہے۔ دہشتگردوں اور ان کے ہمدردوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعلیٰ قومی بیانیے میں دراڑ کیوں ڈالتے ہیں؟ گزشتہ11 سال میں پی ٹی آئی کے کسی لیڈر، وزیر یا مشیر پر حملہ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کا دہشتگردوں سے نرم رویے کی کیا وجہ ہے۔ کالعدم دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔