اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیراطلاعات اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ سیاسی مفاہمت کے لئے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ جیل میں شہبازشریف سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کی راہ ہموار کی تھی، اب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے مل کر اُن سے بھی معاملات کے حل کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستدان نے کہاکہ پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ اور عوام میں موجودہ قیادت کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں جس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی کی پوری قوت کو حکومت خود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ پراپگنڈہ بھی خود کرارہے ہیں۔ جیل والا اس لئے مطمئن ہے کہ اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور حکومت خوش ہے کہ اُس کا اقتدار چل رہا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بن گئے تو وہ کہیں گے کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرائو۔ پھر ملاقات کے بعد وہ کہیں گے دوبارہ ملاقات کرائوکہ میں نے فلاں بات کی بھی اجازت لینی ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی لاحاصل چلتا رہے گا۔ محمد علی درانی نے کہاکہ گائے چوری سے لے کر بم تک کے تمام مقدمات میں ملوث پی این اے کے لیڈروں سے ذوالفقار علی بھٹو نے جیل سے باہر نکال کر بات چیت کی تھی۔ محض بات چیت کرو سے معاملہ سیاسی عمل آگے نہیں بڑھے گا۔ سابق وزیراطلاعات نے کہاکہ پاکستان کی سیاست ٹھیک کرنے کے لئے اُن تمام لوگوں پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے جن کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہائیبرڈ نظام سے اقتدار کا این آراو لینے والوں نے اقتدار میں لانے والوں کوہمیشہ اقتدار سے باہر کیا۔پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کو خوف ہے کہ اگر پی ٹی آئی سے مفاہمت ہوئی تو اُن کا اقتدار پگھل جائے گا۔مجھے اجازت دی جائے تو عمران خان سے جیل میں مل کر بات چیت کی راہ ہموار کراسکتا ہوں۔ موجودہ حکمران جماعتیں اقتدار کے مزے تو لوٹ رہی ہیں، کامیابیاں اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہےں اور ناکامیاں اسٹیبلشمنٹ کے سرتھونپ رہی ہیں۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستدان نے کہاکہ ملک کی معیشت نہیں چل رہی، کاروباری برادری دہائیاں دے رہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ادارے کے سربراہ کے سوا اُن کی کوئی بات سننے والا نہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) گورننس کو بہتر نہیں کرسکتے۔ عوام حکمران سیاسی جماعتوں سے بیزار ہوچکے ہیں ۔ محمد علی درانی نے کہاکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی اقتدار کی ٹانگ ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔ یہ فائدہ اکٹھے لیتے ہیں اور مل کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے انکشاف کیا کہ2018 میں اُن پر دبائو تھا کہ وہ متحدہ محاذ صوبہ بہاولپور کو پی ٹی آئی میں شامل کرائیں لیکن انہوں نے خود بھی اور متحدہ محاذ بہاولپور کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ملک میں ہائیبرڈ نظام کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پہلی ہائیبرڈ حکومت ذوالفقار علی بھٹو نے یحیٰی خان کے ساتھ مل کر بنائی۔ پھر یحییٰ خان کو اقتدار سے نکال کر وہ خود حکمران بن گئے۔ دوسری ہائیبرڈ ضیائ الحق نے نوازشریف کے ساتھ مل کر بنائی۔ ضیائ الحق طیارہ حادثے کا شکار ہوگئے اور نوازشریف خود انقلابی بن اقتدار میں آگئے اور ضیائ الحق کی جماعت پر بھی قبضہ کرلیا۔ میثاق جمہوریت ہونے کے چار دن بعد بے نظیر بھٹو پرویز مشرف کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ این آر او کرکے پرویز مشرف اقتدار سے نکل گئے اور یہ آج تک اقتدار میں ہیں۔ عوام نے ووٹ دیا نہیں پھر بھی فارم 47 کے این آر او آج بھی اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں ہائیبرڈ نظام کی یہ تاریخ بذات خود ایک گواہی ہے کہ ہائیبرڈ نظام بنانے والوں کے ساتھ کیا ہوا اور اُس سے فائدہ اٹھانے والوں نے فائدہ دینے والوں کے ساتھ کیا کیا۔ ایک اور سوال پر سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ 9 مئی کے مقدمات حکومت نے خود خراب کئے۔قومی ادارے سے زیادتی ہوئی لیکن ایسے مقدمات بنائے گئے جن کا فائدہ جرم کرنے والوں کو ہوا اور نقصان ادارے اور قوم کا ہوا۔ وزرا ٹی وی پر غدار بنارہے ہیں اور عدالتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوتا، اس سے بڑی اور کیا سازش ہوسکتی ہے؟ جنہوں نے جرم کیا ہے اُنہیں سزا ملنی چاہیے لیکن حکمران جماعتوں کی پوری کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ خود گڑ بڑ کررہے ہیں۔ سیاسی مفاہمت اور عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ یہ درست ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو میں جیل میں جاکر شہبازشریف سے ملا تھا اور اُن سے چند گزارشات کی تھیں جس کے بعد سیاسی صورتحال بدل گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: محمد علی درانی نے کہاکہ ہائیبرڈ نظام راہ ہموار پی ٹی آئی سوال پر جیل میں کے ساتھ ہے کہ ا رہی ہے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم