اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم ،ڈی جی این سی سی آئی اے 15جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کیخلاف درخواست پر ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے ججز کے خلاف مہم پر کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پراظہار برہمی کیا۔
جسٹس علی ضیا باجوہ نےکہاکہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے،آئندہ ایسی کوئی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ دار ڈی جی ہوں گے،ججز کے خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹ تیار کی جائے۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہاکہ یہ ججز کے خلاف مہم نہیں بلکہ سائبر دہشتگردی ہے۔
جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، پلوشہ خان
عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا؟جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہاکہ حشمت کما ل صاحب اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟این سی سی آئی اے کیوں سو رہاہے، کیا وجہ ہے؟
عدالت نے کہاکہ ججز کے خلاف اتنی خوفناک مہم چلائی جارہی ہے، آپ کیوں خاموش ہیں؟سیکشن 37کہتا ہے غیرقانونی مواد کو ہٹانے کیلئے اقدامات کئے جائیں،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب حکومت ججز کے خلاف مہم کی مذمت کرتی ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ وفاقی حکومت کا معاملے پرکیا موقف ہے؟سرکاری وکیل نے کہاکہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی۔عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
پشاور: ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ایف آئی اے کا پولیس کو بھیجا گیا جواب سامنے آگیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سی سی ا ئی اے ججز کے خلاف مہم نے کہاکہ عدالت نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔