Jasarat News:
2026-07-24@04:57:55 GMT

اشاروں ہی اشاروں میں

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سنتے آئے ہیں کہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے مگر اس میں شرط سیانا ہونا بھی ہے۔ پوری تحریک انصاف ان دنوں عمران خان کی رہائی کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ہے، بار بار فیلڈنگ بھی بدل رہی ہے اور بائولر بھی بدلے جارہے ہیں مگر کیوں کہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ ہے۔ فٹ بال میچ ہو یا ہاکی کا کئی بار ہم نے دیکھا ہے کہ ٹیم کے اپنے ہی کھلاڑی نے اپنی ٹیم کے خلاف ہی گول کردیا ہو۔ ایک بار تو اسی غلطی پر ایک کھلاڑی شائقین کے غصے کا شکار ہو کر قتل بھی ہوچکا ہے۔ مطلب یہ کہ اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول اور وہ بھی کسی بڑے مقابلے کے دوران، ناقابل برداشت سمجھا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف کی ٹیم میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جو عمران خان کی حکومت کے دوران اور اب ان کی قید کے دوران اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کیے جارہے ہیں اور باز بھی نہیں آ رہے، اس کے باوجود یہ لوگ تحریک انصاف میں ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ بس یہی وہ لمحہ ہے جہاں اس بات کی پہچان ضروری ہے کہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ تو پھر یہ بات کس قسم کے عقل مند کے لیے کہی گئی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’’عمران باجوہ ہائبرڈ نظام‘‘ ایک کھرا سچا اور ہر شک شبہ سے پاک ہائبرڈ نظام تھا ایسا نظام شہباز کے حصے میں نہیں آیا۔ ہزار جتن کرنے باوجود شہباز کو عمران باجوہ ہائبرڈ نظام کی ’’برکت‘‘ نہیں مل رہی مگر عمران خان اور ان کے دوست، وزراء ایک بہترین ہائبرڈ نظام کو سنبھال نہیں سکے۔ عمران خان کی ٹیم کے کھلاڑی اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرتے رہے، تحریک عدم اعتماد آئی اس کی وجوہات تلاش کرنے اور سیاسی، قانونی اور آئینی مقابلہ کرنے کے بجائے تحریک عدم اعتماد کو غداری قرار دے دیا گیا۔ غداری قرار دینے والے کھلاڑی آج عمران خان کی رہائی کے لیے کوششوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں، اللہ ہی خیر کرے۔

عمران خان حکومت عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے فارغ ہوئی تو پی ڈی ایم کی حکومت دو ماہ کے بعد ہی ملک میں انتخابات کرانے پر تیار تھی، نئے انتخابات میں عمران خان خود رکاوٹ بنے یعنی اب کھلاڑیوں کے بجائے خود کپتان نے ہی اپنی ٹیم کے خلاف گول کردیا۔ ان کے انکار کے بعد یہ فیصلہ کرلیا کہ انتخابات کب کرانے یہ فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔ پنجاب اور کے پی کے سے عمران خان کے استعفوں کے باوجود دونوں اسمبلیوں کے انتخابات نہیں ہوئے، یوں نگران حکومتوں کو ایک لمبی مدت ملی، انتخابات کے بعد ایک بار پھر پکا، فول پروف اور سچا فیصلہ ہوا کہ عمران خان کو رہا کردیا جائے مگر تحریک انصاف کی ٹیم نے کہا کہ نہیں ہم بھیک نہیں مانگیں گے۔ عدالتوں سے رہائی لیں گے، جب تحریک انصاف نے یہ فیصلہ کرلیا تو رہا کرنے والے بھی خاموش ہوگئے۔ مگر ان کے دل میں یہ بات رہی کہ عمران خان کو رہا کرنا ہے۔ اس فیصلے کی راہ میں خود تحریک انصاف رکاوٹ بنی رہی پھر فیصلہ کیا کہ کفن باندھ کر اسلام آباد پر حملہ کریں گے، اس کے باوجود فیصلہ یہی تھا کہ تحریک انصاف اگرچہ غلطیاں کر رہی ہے تاہم رعایت برتی جائے اور رہائی دے دی جائے۔ رہائی کی بات بھی طے ہوگئی مگر عمران خان کی ٹیم کی کوچ نے حکم دیا کہ نہیں کچھ بھی ہوجائے ڈی چوک ہی پہنچنا ہے۔ بہت سمجھایا گیا مگر ایک ہی رٹ تھی کہ نہیں ڈی چوک ہی پہنچنا ہے۔ جب سمجھانے والے بھی بے بس ہوگئے تو پھر فیصلہ ہوا آجائو ڈی چوک، اس کے بعد کیا ہوا؟ اور اس سے پہلے نو مئی کو کیا ہوا تھا؟ کس کو آرمی چیف مقرر کرنے کا لارا لگایا گیا تھا؟ تحریک انصاف خود ہی اس راز سے پردہ اٹھائے تو بہتر ہوگا ہم نے کچھ لکھا تو گالی بریگیڈ متحرک ہوجائے گی۔

تحریک انصاف کو یہ بات سمجھ لینی ہوگی کہ سیاست تصادم کا نام نہیں ہے حکمت کا نام ہے۔ یہ کچھ بھی کرلیں جب تک ان کامزاج نہیں سدھرے گا تحریک انصاف کے لیے مشکلات کم نہیں بڑھتی چلی جائیں گی۔ یہ پہلے حکومت سے محروم ہوئی، پھر عمران خان کی گرفتاری ہوئی، اس کے بعد سزائیں ہونا شروع ہوگئیں، انتخابات ہوگئے اسمبلی میں اس کے لوگ چلے گئے یوں اس نظام کو بھی تسلیم کرلیا مگر اس کے باوجود حکمت سے خالی سیاست جاری رکھی۔ برداشت کی حد ختم ہوئی تو تحریک انصاف قومی اسمبلی سے قائد حزب اختلاف کے عہدے سے بھی محروم ہوگئی، اسمبلی میں بینرز اٹھانے والے ارکان ایک ایک کرکے نااہل ہونا شروع ہوگئے، اب اسمبلی میں تحریک انصاف کوئی بڑی قوت نہیں ہے۔ ہاں یہ آج اپنی اصلاح کرلیں یہ پھر سے قوت بن جائے گی۔ مگر راستہ ایک ہی ہے کہ جس راستے یہ اقتدار میں آئی تھی اسی راستے سے ہی رہائی ہوگی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ لوگ بدتمیزی سے بھر پور ٹویٹر چلاتے رہیں اور دوسرے برداشت کرتے رہیں اب یہ نہیں ہوگا؛ فیصلہ بھی یہی ہے۔ رہ گئی بات مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی دونوں جوان خون پر بھروسا کر رہی ہیں اور اب تک بے شمار غلطیاں کر چکی ہیں۔ حکمت، تدبر ان کی صفوں میں موجود نہیں ہے کہیں ایسا تو نہیں سیاست دان خود ہی اپنی بساط لپیٹ رہے ہوں کیونکہ جن لوگوں کو تحریک انصاف مذاکرات کا علم دے کر میدان میں اُتار رہی ہے یہ بھی اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرنے کے عادی اور مہارت بھی رکھتے ہیں ان کی ایک خوبی اور بھی ہے اور یہ خوبی بہت ہی شان دار ہے کہ یہ گول کرنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ کس کے خلاف گول کرنا ہے اور خود کتنے گول کھانے ہیں۔ بس یہی حکمت عملی ان کا سیاسی کلمہ حق ہے۔

میاں منیر احمد سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمران خان کی ہائبرڈ نظام تحریک انصاف کے باوجود کے بعد کی ٹیم کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف