Jasarat News:
2026-06-03@04:51:06 GMT

اشاروں ہی اشاروں میں

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سنتے آئے ہیں کہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے مگر اس میں شرط سیانا ہونا بھی ہے۔ پوری تحریک انصاف ان دنوں عمران خان کی رہائی کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ہے، بار بار فیلڈنگ بھی بدل رہی ہے اور بائولر بھی بدلے جارہے ہیں مگر کیوں کہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ ہے۔ فٹ بال میچ ہو یا ہاکی کا کئی بار ہم نے دیکھا ہے کہ ٹیم کے اپنے ہی کھلاڑی نے اپنی ٹیم کے خلاف ہی گول کردیا ہو۔ ایک بار تو اسی غلطی پر ایک کھلاڑی شائقین کے غصے کا شکار ہو کر قتل بھی ہوچکا ہے۔ مطلب یہ کہ اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول اور وہ بھی کسی بڑے مقابلے کے دوران، ناقابل برداشت سمجھا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف کی ٹیم میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جو عمران خان کی حکومت کے دوران اور اب ان کی قید کے دوران اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کیے جارہے ہیں اور باز بھی نہیں آ رہے، اس کے باوجود یہ لوگ تحریک انصاف میں ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ بس یہی وہ لمحہ ہے جہاں اس بات کی پہچان ضروری ہے کہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ تو پھر یہ بات کس قسم کے عقل مند کے لیے کہی گئی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’’عمران باجوہ ہائبرڈ نظام‘‘ ایک کھرا سچا اور ہر شک شبہ سے پاک ہائبرڈ نظام تھا ایسا نظام شہباز کے حصے میں نہیں آیا۔ ہزار جتن کرنے باوجود شہباز کو عمران باجوہ ہائبرڈ نظام کی ’’برکت‘‘ نہیں مل رہی مگر عمران خان اور ان کے دوست، وزراء ایک بہترین ہائبرڈ نظام کو سنبھال نہیں سکے۔ عمران خان کی ٹیم کے کھلاڑی اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرتے رہے، تحریک عدم اعتماد آئی اس کی وجوہات تلاش کرنے اور سیاسی، قانونی اور آئینی مقابلہ کرنے کے بجائے تحریک عدم اعتماد کو غداری قرار دے دیا گیا۔ غداری قرار دینے والے کھلاڑی آج عمران خان کی رہائی کے لیے کوششوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں، اللہ ہی خیر کرے۔

عمران خان حکومت عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے فارغ ہوئی تو پی ڈی ایم کی حکومت دو ماہ کے بعد ہی ملک میں انتخابات کرانے پر تیار تھی، نئے انتخابات میں عمران خان خود رکاوٹ بنے یعنی اب کھلاڑیوں کے بجائے خود کپتان نے ہی اپنی ٹیم کے خلاف گول کردیا۔ ان کے انکار کے بعد یہ فیصلہ کرلیا کہ انتخابات کب کرانے یہ فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔ پنجاب اور کے پی کے سے عمران خان کے استعفوں کے باوجود دونوں اسمبلیوں کے انتخابات نہیں ہوئے، یوں نگران حکومتوں کو ایک لمبی مدت ملی، انتخابات کے بعد ایک بار پھر پکا، فول پروف اور سچا فیصلہ ہوا کہ عمران خان کو رہا کردیا جائے مگر تحریک انصاف کی ٹیم نے کہا کہ نہیں ہم بھیک نہیں مانگیں گے۔ عدالتوں سے رہائی لیں گے، جب تحریک انصاف نے یہ فیصلہ کرلیا تو رہا کرنے والے بھی خاموش ہوگئے۔ مگر ان کے دل میں یہ بات رہی کہ عمران خان کو رہا کرنا ہے۔ اس فیصلے کی راہ میں خود تحریک انصاف رکاوٹ بنی رہی پھر فیصلہ کیا کہ کفن باندھ کر اسلام آباد پر حملہ کریں گے، اس کے باوجود فیصلہ یہی تھا کہ تحریک انصاف اگرچہ غلطیاں کر رہی ہے تاہم رعایت برتی جائے اور رہائی دے دی جائے۔ رہائی کی بات بھی طے ہوگئی مگر عمران خان کی ٹیم کی کوچ نے حکم دیا کہ نہیں کچھ بھی ہوجائے ڈی چوک ہی پہنچنا ہے۔ بہت سمجھایا گیا مگر ایک ہی رٹ تھی کہ نہیں ڈی چوک ہی پہنچنا ہے۔ جب سمجھانے والے بھی بے بس ہوگئے تو پھر فیصلہ ہوا آجائو ڈی چوک، اس کے بعد کیا ہوا؟ اور اس سے پہلے نو مئی کو کیا ہوا تھا؟ کس کو آرمی چیف مقرر کرنے کا لارا لگایا گیا تھا؟ تحریک انصاف خود ہی اس راز سے پردہ اٹھائے تو بہتر ہوگا ہم نے کچھ لکھا تو گالی بریگیڈ متحرک ہوجائے گی۔

تحریک انصاف کو یہ بات سمجھ لینی ہوگی کہ سیاست تصادم کا نام نہیں ہے حکمت کا نام ہے۔ یہ کچھ بھی کرلیں جب تک ان کامزاج نہیں سدھرے گا تحریک انصاف کے لیے مشکلات کم نہیں بڑھتی چلی جائیں گی۔ یہ پہلے حکومت سے محروم ہوئی، پھر عمران خان کی گرفتاری ہوئی، اس کے بعد سزائیں ہونا شروع ہوگئیں، انتخابات ہوگئے اسمبلی میں اس کے لوگ چلے گئے یوں اس نظام کو بھی تسلیم کرلیا مگر اس کے باوجود حکمت سے خالی سیاست جاری رکھی۔ برداشت کی حد ختم ہوئی تو تحریک انصاف قومی اسمبلی سے قائد حزب اختلاف کے عہدے سے بھی محروم ہوگئی، اسمبلی میں بینرز اٹھانے والے ارکان ایک ایک کرکے نااہل ہونا شروع ہوگئے، اب اسمبلی میں تحریک انصاف کوئی بڑی قوت نہیں ہے۔ ہاں یہ آج اپنی اصلاح کرلیں یہ پھر سے قوت بن جائے گی۔ مگر راستہ ایک ہی ہے کہ جس راستے یہ اقتدار میں آئی تھی اسی راستے سے ہی رہائی ہوگی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ لوگ بدتمیزی سے بھر پور ٹویٹر چلاتے رہیں اور دوسرے برداشت کرتے رہیں اب یہ نہیں ہوگا؛ فیصلہ بھی یہی ہے۔ رہ گئی بات مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی دونوں جوان خون پر بھروسا کر رہی ہیں اور اب تک بے شمار غلطیاں کر چکی ہیں۔ حکمت، تدبر ان کی صفوں میں موجود نہیں ہے کہیں ایسا تو نہیں سیاست دان خود ہی اپنی بساط لپیٹ رہے ہوں کیونکہ جن لوگوں کو تحریک انصاف مذاکرات کا علم دے کر میدان میں اُتار رہی ہے یہ بھی اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرنے کے عادی اور مہارت بھی رکھتے ہیں ان کی ایک خوبی اور بھی ہے اور یہ خوبی بہت ہی شان دار ہے کہ یہ گول کرنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ کس کے خلاف گول کرنا ہے اور خود کتنے گول کھانے ہیں۔ بس یہی حکمت عملی ان کا سیاسی کلمہ حق ہے۔

میاں منیر احمد سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمران خان کی ہائبرڈ نظام تحریک انصاف کے باوجود کے بعد کی ٹیم کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان