لیسکو کا صارفین سے واجبات وصولی کا نظام ون لنک پر منتقل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
سٹی42: لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے صارفین سے بجلی کے واجبات وصول کرنے کے نظام میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت بلوں کی وصولی کا نظام اب ون لنک پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
لیسکو حکام کے مطابق کمپنی نے ون لنک کی مدد سے فنڈز کی مؤثر مانیٹرنگ اور ریکوری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر کام شروع کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ون لنک کے ذریعے جمع ہونے والی بجلی کے بلوں کی رقوم فوری طور پر لیسکو کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو جائیں گی۔
سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد
حکام کا کہنا ہے کہ ون لنک سسٹم کے نفاذ سے نہ صرف بجلی کے بلوں کی ریکوری کی شرح میں بہتری آئے گی بلکہ فنڈز کی نگرانی بھی آسان ہو جائے گی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ لیسکو کو جمع شدہ بلوں کی رقوم کی ویری فکیشن کے لیے کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ موجودہ نظام میں یہ رقوم تین مختلف مراحل سے گزر کر لیسکو کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔