میئر کراچی کا شہر میں تمام ہائیڈرنٹس اور واٹر ٹینکرز سے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260114-01-27
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر میں ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے واٹر کارپوریشن کو متبادل نظام متعارف کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔میئر کراچی نے کہا ہے کہ کراچی میں واٹر ہائیڈرنٹس ختم کرکے پانی کی فراہمی پائپ لائنز کے ذریعے کی جائے گی۔ انہوں نے واٹر کارپوریشن کو ہدایت کی کہ ٹینکروں کا متبادل مؤثر نظام لایا جائے تاکہ شہریوں کو مستقل بنیادوں پر پانی کی سہولت فراہم ہو سکے۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ واٹر ہائیڈرنٹس سے ماہانہ تقریباً 30 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے تاہم ان ہائیڈرنٹس کے کنٹریکٹس گزشتہ سال ہی ختم ہوچکے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اب نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کیے جائیں گے بلکہ شہریوں کو ٹینکروں سے نجات دلائی جائے گی۔ میئر کراچی نے کہا کہ ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنا کوئی مستقل حل نہیں ہے اور اس نظام کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی کمی کو متبادل دنوں میں ہر علاقے کو پانی فراہم کرکے پورا کیا جائے گا۔مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کو ہدایت دی کہ پانی عوام کی دہلیز پر لائنوں کے ذریعے فراہم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کے تحت پپری پمپنگ اسٹیشن پر بچھائی جانے والی نئی پائپ لائن کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق نئی پائپ لائن کو شہر کے موجودہ پانی کی فراہمی کے نظام سے منسلک کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد کراچی کے پانی کے ترسیلی نظام کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کی اپ اسٹریم سائٹ پر پائپ لائن کا تقریباً 90 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے جب کہ ڈاؤن اسٹریم سائٹ پر 70 فیصد تعمیراتی کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ منصوبے کی بروقت اور جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی فراہمی میئر کراچی کے ذریعے
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔