کراچی میں واٹر ٹینکر مافیا کے خاتمے کا فیصلہ: تمام ہائیڈرنٹس مرحلہ وار بند ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کراچی: شہر قائد میں پانی کے دیرینہ بحران کے حوالے سے ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر بھر میں واٹر ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی بتدریج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس پالیسی فیصلے کے تحت شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے متبادل اور پائیدار نظام متعارف کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کا مقصد شہریوں کو مہنگے اور غیر یقینی ٹینکر سسٹم سے نجات دلانا ہے۔
میئر کراچی نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں موجود تمام سات ہائیڈرنٹس کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور پانی کی فراہمی لائنوں کے ذریعے براہِ راست گھروں تک یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کرنا نہ تو مستقل حل ہے اور نہ ہی یہ شہریوں کے لیے سہولت کا باعث بن رہا ہے، بلکہ اس نظام نے عوام کو شدید مالی اور ذہنی مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ واٹر ہائیڈرنٹس سے ماہانہ تقریباً 30 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل کیا جاتا رہا ہے، تاہم اس کے باوجود شہری پانی کی قلت کا شکار ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نظام عوامی مفاد کے بجائے مخصوص عناصر کے فائدے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واٹر ہائیڈرنٹس کے تمام کنٹریکٹس گزشتہ برس ختم ہو چکے ہیں۔ اب بلدیہ عظمیٰ کسی صورت نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کو پانی کی منصفانہ اور شفاف فراہمی ہے، نہ کہ ٹینکر مافیا کو مزید مضبوط کرنا۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ شہر میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے متبادل دنوں میں مختلف علاقوں کو پانی فراہم کرنے کا نظام بہتر بنایا جائے گا تاکہ دستیاب وسائل کو منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک بڑا اور مشکل فیصلہ ہے، مگر کراچی کے مستقبل اور شہریوں کے مفاد میں یہ ناگزیر ہو چکا تھا۔
دوسری جانب بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بڑے پیمانے پر مالی اور انتظامی اصلاحات لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے ایف اے بی ایس ڈائریکٹوریٹ اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے وفد نے ملاقات کی، جس میں بلدیاتی ادارے کے مالی نظام، اخراجات اور شفافیت سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
میئر کراچی نے اس موقع پر پینشن سسٹم کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرنے کی ہدایت دی تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش مسائل کم کیے جا سکیں۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ پینشن کے ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ پیمنٹ سسٹم کو بھی ایس اے پی سسٹم سے منسلک کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں میں شفافیت اور رفتار لائی جا سکے۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کے مالی اور انتظامی معاملات میں بہتری ان کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے چالان، جرمانوں اور سرکاری کرایوں کی وصولی کو بھی ڈیجیٹل نظام کے تحت لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میئر کراچی بلدیہ عظمی نے کہا کہ کراچی نے انہوں نے پانی کی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔