Juraat:
2026-06-02@22:06:53 GMT

جامعہ کراچی ، ریٹائرڈ افسران مشکوک اسنادو خدمات سے سرگرم

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

جامعہ کراچی ، ریٹائرڈ افسران مشکوک اسنادو خدمات سے سرگرم

وائس چانسلر خالد عراقی نے پوری یونیورسٹی کو اپنی بدانتظامیوں کی گہری دلدل میں دھکیل دیا
نصرت ادریس اور ڈاکٹر قدیر ریٹائرمنٹ کے باوجود مسلط ،انتظامی معاملات میں شامل
کراچی (نمائندہ جرأت)پاکستان کی اہم ترین جامعات میں شمار ہونے والی جامعہ کراچی ان دنوں بدترین بحرانوں کے نرغے میںہے۔ ماضی کے تاریک سایوں میں زندگی کرنے والے بے خود وائس چانسلر خالد عراقی نے پوری یونیورسٹی کو اپنی بدانتظامیوں کی گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ میرٹ یا شفافیت کے نام کی کوئی چڑیا جامعہ کے کسی محکمہ کی منڈیر پر دکھائی نہیں پڑتی۔ وائس چانسلر خالد عراقی کے مقربین و محبوبین کا ایک رنگارنگ ٹولہ جامعہ کے تمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے، جن کا میرٹ ماضی کے تاریک دنوں کے وہ مراسم ہیں جو افواہوں ، سرگوشیوں اور کانا پھوسیوں کے ہدف رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شیخ الجامعہ کے انتہائی قریبی حلقے میں شامل اور حلقوم تک بدانتظامیوں کی دلدل میں دھنسی انتظامیہ کا حصہ بننے والی ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر نصرت ادریس کے سائے تاحال یونیورسٹی سے لپٹ نہیں سکے۔’ہمہ صفت موصوفہ‘ شیخ الجامعہ کے قریبی حلقے میں شامل سمجھی جاتی ہیں۔ تھرڈ ڈویژن میں داخلہ پانے والی نصرت ادریس صاحبہ بھی اُن مشکوک اسناد کی حامل شخصیات میں شامل ہیں جن کی پی ایچ ڈی ریٹائر منٹ سے کچھ عرصہ قبل ہی ہو سکی تھی اور وہ جامعہ کے انتظامی امور میں تاحال کسی نہ کسی طرح دخیل رہتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایک اور ریٹائرڈ ملازم ڈاکٹر قدیر کا ہے جو تھرڈ ڈویژن کے باوجود’’ اہلیت‘ ‘ کی تہمت رکھتے ہیں۔ اور پی ایچ ڈی بھی کر گزرے ہیں۔ موصوف مارچ 2023 میں ریٹائر ہونے کے باوجود آج بھی جامعہ کراچی کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے ایڈوائزر کی حیثیت سے سرگرم ہیں۔ کیا جامعہ کراچی انتظامی سطح پر اس قدر بانجھ پن کی شکار ہے کہ اُسے کے اہم ترین معاملات تاحال ریٹائرڈ ملازمین سے چلائے جا رہے ہیں؟ یا کیا یہ وہ افراد ہیں جو شیخ الجامعہ کے تاریک ماضی کے لیل و نہار سے آگاہی رکھتے ہیں جس کے باعث ان سے جان چھڑانا مشکل ہو رہا ہے؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی35سال پرانی اسناد ٹٹولنے والے خالد عراقی اپنے مقربین کی اسنادکو بھی کھولنے کھنگالنے کے لیے ہاتھ بڑھائیں گے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جامعہ کراچی خالد عراقی جامعہ کے

پڑھیں:

کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔

بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟