سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ برسوں کی خراب چیزیں ایک دن میں درست ہوجائیں، وزیراعظم سمیت حکومت کے تبدیل ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے، ’ونڈر بوائے‘ کو جس نے تخلیق کیا ہے وہی بتائیں گے کہ وہ کون ہے۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے کو اچھے انداز میں چلا رہی ہیں، بہترین کام کررہی ہیں اور لوگوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت سپر اسپیڈ سے نکل کر ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش میں مصروف ہے، بیرسٹر گوہر

’شہہاز شریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ کام میں لگے رہتے ہیں، اب مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہیں تو ان کے بارے میں بھی یہی سن رہے ہیں کہ وہ کام میں لگی رہتی ہیں۔ مخالفین ان پر تنقید جبکہ حامی تعریف کرتے ہیں۔‘

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ ابھی تک پاکستان میں ایسا کوئی انتخاب نہیں ہوا جس پر اعتراضات نہ اٹھے ہوں، میری نظر میں سب سے متنازعہ الیکشن 1977 کا تھا، جس میں اپوزیشن ایک دن کے لیے بھی اسمبلی نہیں گئی اور کہاکہ ہم اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے، پھر ایک بڑی تحریک چلائی گئی اور الیکشن کرانے والوں نے بھی مانا کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں جس کے بعد نئے انتخابات کروائے گئے ۔

انہوں نے کہاکہ اب کی بار اپوزیشن اسمبلیوں میں ہے، ایک صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے، وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کہتی ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے مگر یہ لوگ اسمبلیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ساتھ اعتراض بھی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کا مستقبل تو کوئی ’نجومی‘ ہی بتا سکتا ہے، تاہم میرے مطابق ان کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، جب کسی پر آفت آتی ہے تو وہ اپنی حکمت عملی بناتا ہے، عمران خان بھی کوئی ایسی حکمت عملی بنائیں جس کے ذریعے وہ اس مشکل سے نکل آئیں۔

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے بھی اپنی حکمت عملی بنا کر ایسی مشکلات سے چھٹکارہ حاصل کیا۔ عمران خان پر مشکلات اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے شورش کی سیاست شروع کردی ہے۔ اگر وہ نارمل طریقے سے سیاست کرتے رہتے تو صورت حال مختلف ہوتی، اب بھی اگر وہ اپنے سینیئر لوگوں کو فری ہینڈ دے دیں تو کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار نے کہاکہ عمران خان کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسمبلیوں میں بھی ہیں اور عوام میں بھی ان کی مقبولیت ہے۔ ان کی پارٹی کے لوگ پچھلے دو ڈھائی سالوں سے جیلوں میں ہیں، جو کوتاہی ہونا تھی وہ ہوگئی، اب ہمیں قوم کو متحد بھی تو کرنا ہے، آگے بھی تو بڑھنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نواز شریف خوش ہیں کہ ان کی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، بھائی وزیراعظم پاکستان ہیں، جبکہ خود وہ پارٹی کے صدر ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر، تعلقات میں دراڑ کی باتیں بے بنیاد

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بن کر کیا کریں گے، ان کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں، محاذ آرائی کی سیاست ختم کریں، اقتدار سے باہر رہ کر بھی تو قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، نواز شریف اور عمران خان دونوں قوم کو متحد کر سکتے ہیں، دونوں مل کر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہاکہ مریم نواز اور بلاول بھٹو دونوں میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہے، اب دیکھیں موقع کس کو ملتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews حکمت عملی سینیئر تجزیہ کار عمران خان مجیب الرحمان شامی مریم نواز نواز شریف وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حکمت عملی سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی مریم نواز نواز شریف وی نیوز مجیب الرحمان شامی نے انہوں نے کہاکہ مریم نواز حکمت عملی نواز شریف ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران